سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ : رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمْلَى عَلَيْهِ ، " لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمْلِيهَا عَلَيَّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَثَقُلَتْ حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ هَذَا ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رِوَايَةُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ التَّابِعِين ، رَوَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، وَمَرْوَانُ لم يسمع من النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مِنَ التَّابِعِين .´سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے مروان بن حکم کو مسجد میں بیٹھا ہوا دیکھا تو میں بھی آگے بڑھ کر ان کے پہلو میں جا بیٹھا انہوں نے ہمیں بتایا کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں املا کرایا « ( لا يستوي القاعدون من المؤمنين» «والمجاهدون في سبيل الله» ” گھروں میں بیٹھ رہنے والے مسلمان ، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے “ اسی دوران ابن ام مکتوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچے اور آپ اس آیت کا ہمیں املا کرا رہے تھے ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ، اگر میں جہاد کی طاقت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا ، وہ نابینا شخص تھے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت «غير أولي الضرر» نازل فرمائی اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ کی ران ( قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے ) میری ران پر تھی ، وہ ( نزول وحی کے دباؤ سے ) بوجھل ہو گئی ، لگتا تھا کہ میری ران پس جائے گی ۔ پھر ( جب نزول وحی کی کیفیت ختم ہو گئی ) تو آپ کی پریشانی دور ہو گئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اسی طرح کئی راویوں نے زہری سے اور زہری نے سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ، ۳- معمر نے زہری سے یہ حدیث قبیصہ بن ذویب کے واسطہ سے ، قبیصہ نے زید بن ثابت سے روایت کی ہے ، اور اس حدیث میں ایک روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کی ایک تابعی سے ہے ، روایت کیا ہے سہل بن سعد انصاری ( صحابی ) نے مروان بن حکم ( تابعی ) سے ۔ اور مروان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے ، وہ تابعی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسی کیفیت کو راوی نے یہاں بیان کیا ہے۔
آیت میں ان الفاظ سے نابینا بیمار اپاہج لوگ فرضیت جہاد سے مستثنیٰ کردئیے گئے۔
سچ ہے ﴿لَا یُکَلّفُ اللہُ نَفسنا اِلا وُسْعَھَا﴾ (البقرة: 286)
احکام الٰہی صرف انسانی وسعت و طاقت کی حد تک بچا لانے ضروری ہیں۔
1۔
اس آیت سے معلوم ہواکہ جہاد فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے کیونکہ معاشرے میں کئی افراد بوڑھے،ناتواں،کمزور،اندھے،لنگڑے اور بیمار وغیرہ ہوتے ہیں جو جہاد پر جا ہی نہیں سکتے،نیز کچھ لوگ ملک کے اندرونی دفاع،مجاہدین کے گھروں کی حفاظت،ان کے اہل وعیال کی دکھ بھال کے لیے ضرور پیچھے رہنے چائیں اور اس لیے بھی کہ مجاہدین کو بروقت مدد مہیا کرتے رہیں،خواہ یہ رسد اور سامان خوردونوش سے متعلق ہو یا افرادی قوت سے،پھرکچھ لوگ زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی ضروری ہوتے ہیں۔
2۔
آیت کریمہ سے یہ بات بھی صراحت کے ساتھ ثابت ہوتی ہے کہ جو اہل ایمان میدان میں بغیر جسمانی عذر کے بھی شریک نہیں ہوتے ان کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے خیر وبھلائی اور جنت کا وعدہ کررکھاہے لیکن اگر جہاد ہرحال میں فرض عین ہوتا تو پھر جہاد سے پیچھے رہنے والوں سے خیرو بھلائی کا وعدہ کیوں کرتا،چنانچہ حافظ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں: ’’اس آیت سے اس بات کی دلیل ہے کہ جہاد فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے۔
‘‘ (تفسیر ابن کثیر: 821/1)
3۔
اللہ تعالیٰ نے اگرچہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کا عذرقبول فرمالیا لیکن اس رخصت کے باوجود آپ کا جذبہ جہاد اتنا بلند تھا کہ آپ مشقت اٹھا کر بھی کئی غزوات میں شریک ہوئے۔
جہاد کن صورتوں میں فرض عین ہوتا ہے،اس کی تفصیل ہم پیچھے بیان کرآئے ہیں۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھا تو آپ کو سکینت نے ڈھانپ لیا (یعنی وحی اترنے لگی) (اسی دوران) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑ گئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ” لکھو “، میں نے شانہ (کی ایک ہڈی) پر «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» ” اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں “۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2507]
1۔
مریض، نابینا، اپاہج، یا دیگر شرعی عذر کی بنا ء پر اگر کوئی جہاد سے پیچھے رہ جائے۔
تو مباح ہے، لیکن جب نفیر عام کا حکم ہو تو بلا عذر پیچھے رہنا کسی طرح روا نہیں۔
2۔
نزول وحی کے وقت رسول اللہ ﷺ پر انتہائی بوجھ پڑتا تھا۔
حتیٰ کے سخت سردی میں بھی آپﷺ کو پسینہ آجاتا تھا۔
اور اگر آپ اونٹنی پر ہوتے تو وہ بھی ٹک کرکھڑی ہوجاتی تھی۔
اور چل نہ سکتی تھی۔
3۔
قرآن مجید جس قدر اترتا تھا نبی کریم ﷺ اس کی کتابت کروا دیا کرتے تھے۔
البتہ ابتداء میں احادیث کے لکھنے کی عام اجازت نہ تھی۔
سوائے چند ایک صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کے زیادہ وثائق جو آپ نے بالخصوص لکھوائے۔
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» ” اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں۔“ (النساء: ۹۵) نازل ہوئی اور آپ اسے بول کر مجھ س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3101]
(2) حضرت ابن کلثوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے۔ عربی زبان میں ”مکتوم“ نابینے کو کہتے ہیں۔ ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ اکثر محققین نے عبداللہ بتایا ہے۔ بعض نے عمرو بھی کہا ہے۔ واللہ أعلم۔
(3) ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ (النسائي:4:95) کے الفاظ کے بعد میں اترنے پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ اگر یہ الفاظ نہ ہوتے تب بھی شرعی ادلہ کی رو سے معذور کی رخصت ہے اور نیت کا اجر ملنا بھی قطعی مسئلہ ہے، تاہم جہاد کی اہمیت کے پیش نظر وضاحت کی ضرورت محسوس ہوئی تو وضاحت کردی گئی۔