حدیث نمبر: 3026
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ : " صَنَعَ لَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ طَعَامًا ، فَدَعَانَا وَسَقَانَا مِنَ الْخَمْرِ ، فَأَخَذَتِ الْخَمْرُ مِنَّا ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَدَّمُونِي ، فَقَرَأْتُ " قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ " لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ، وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا ، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی ۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کر دیں ، اور اسی دوران نماز کا وقت آ گیا ، تو لوگوں نے مجھے ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا دیا ، میں نے پڑھا «قل يا أيها الكافرون لا أعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» ” اے نبی ! کہہ دیجئیے : کافرو ! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا ، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو “ ، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ” اے ایمان والو ! جب تم نشے میں مست ہو ، تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو “ ( النساء : ۴۳ ) ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: پھر بعد میں یہ حکم بھی منسوخ ہو گیا، یعنی شراب بالکل حرام کر دی گئی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3026
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: (3026) إسناده ضعيف, عطاء بن السائب صدوق اختلط ( د 2819) وحديث أبى داود ( 3671، سنده حسن) يغني عنه
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأشربة 1 (3671) ( تحفة الأشراف : 10175) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔`
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کر دیں، اور اسی دوران نماز کا وقت آ گیا، تو لوگوں نے مجھے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا «قل يا أيها الكافرون لا أعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» اے نبی! کہہ دیجئیے: کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» اے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3026]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو تو صلاۃ کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو‘‘ (النساء: 43) پھر بعد میں یہ حکم بھی منسوخ ہو گیا یعنی شراب بالکل حرام کر دی گئی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3026 سے ماخوذ ہے۔