سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 ، غَمَزَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَى أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَإِنَّمَا هُوَ إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ .´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے ، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں ، چنانچہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء میں سے تلاوت کی ، جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» ۱؎ پر پہنچا تو رسول اللہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا ( کہ بس کرو ، آگے نہ پڑھو ) میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ابولأحوص نے اعمش سے ، اعمش نے ابراہیم سے اور ابراہیم نے علقمہ کے واسطہ سے ، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے ، اور حقیقت میں وہ سند یوں ہے «إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله» ( «عن علقمة» نہیں ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء میں سے تلاوت کی، جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» ۱؎ پر پہنچا تو رسول اللہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا (کہ بس کرو، آگے نہ پڑھو) میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3024]
وضاحت:
1؎:
’’پس کیا حال ہوگا اس وقت کہ جب ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے‘‘ (النساء: 41)
1۔
دوسرے سے قرآن سننے میں یہ لطف ہوتا ہے کہ سننے والا غور و فکر اور تدبر زیادہ کرتا ہے اور وہ قاری کی نسبت قراءت کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے کیونکہ قاری تو قراءت اور اس کے احکام میں مشغول ہوتا ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے یہ کام کیا تاکہ قرآن سننا سنت بن جائے۔
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کو قرآن سنایا تا کہ انھیں مخارج حروف اور ادائیگی کی تعلیم دیں جیسا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ نے (فِي آذَانِهِم)
سورت سنائی اور فرمایا: ’’مجھے اللہ تعالیٰ نے تجھے سنانے کا حکم دیا ہے۔
‘‘ یہ اعزاز سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوشی سے رونے لگے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3809)
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کو پڑھ کر سناؤں، آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سناؤ۔
چنانچہ میں نے سورۃ نساء پڑھی جب میں آیت فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علیٰ ھٰولاءشھیدا پر پہنچا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بس کرو۔
میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے
1۔
اگر سننے والا قاری سے کہتا ہے کہ اب بس کرواس میں قرآن کریم کے متعلق کوئی توہین کا پہلو نہیں نکلتا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت ہے۔
آپ نے اس مقام پر غور و فکر کرنے اور دوسروں کو توجہ دلانے کے لیے یہ اقدام کیا۔
2۔
اس میں قیامت کی ہولنا کیوں کا بیان ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے مناظر کو سامنے رکھتے ہوئے رودیے۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس مقام پر خوب غور وفکر کیا جائے۔
کیونکہ یہ معاملہ انتہائی خوفناک ہو گا۔
واللہ المستعان۔
بعضوں نے کہا آپ کا یہ رونا خوشی کا رونا تھا چونکہ آپ تمام پیغمبروں کے گواہ بنیں گے۔
آیت کا ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔
1۔
محدثین نے رسول اللہ ﷺ کے رونے کے تین اسباب بیان کیے ہیں۔
۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ کو شہادت دینا ہوگی اور آپ کی شہادت پر ہی فیصلہ ہو گا آپ شافع بھی ہوں گے تو آپ اپنی امت کے گناہ گاروں کو یاد کر کے رو دیے۔
۔
ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فضیلت پر انتہائی خوشی کی وجہ سے دوسرے اللہ تعالیٰ کی اس عطا پر انتہائی شکر گزاری کے طور پر آنسو بہہ پڑے۔
۔
اس دن کی ہولناکی کے تصور سے رو پڑے جس کا اس آیت کریمہ میں تذکرہ ہے یعنی اس دن حضرات انبیاء ؑ اپنی امتوں کے حق میں یا ان کے خلاف بطور گواہ پیش ہوں گے۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دوسروں سے قرآن سننا تدبر کا زیادہ باعث ہے جبکہ خود پڑھنے سے اس قدر غور و فکر نہیں ہوتا۔
اس سے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی بھی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
آیت میں محشر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت کا ذکر ہے جب آپ اپنی امت پر گواہی کے لئے پیش ہوں گے۔
1۔
تلاوت قرآن کے وقت گریہ طاری ہونا عارفین کی صفت، کاملین کا طریقہ اور صالحین کا شعار ہےارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک وہ لوگ جنھیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں (اور ان پر گریہ طاری ہو جاتا ہے)
۔
‘‘ (بني إسرائیل: 17۔
109)
2۔
امام غزالی نے کہا ہےکہ تلاوت قرآن کے وقت رونا مستحب عمل ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ تلاوت قرآن کے وقت دل میں غم اور خوف کی کیفیت پیدا کی جائے اور قرآن میں جو وعید اور سختی کا ذکرہے، اسے دماغ میں حاضر کر کے غور و فکر کیا جائے کہ مجھ میں کہا کہاں کمی واقع ہوئی ہے اگر یہ کیفیت طاری نہ ہو تو اپنے پر رونا چاہیے کیونکہ یہ بہت بڑی مصیبت ہے۔
(فتح الباري: 123/9)
ایک روایت میں اس کی مزید تفصیل ہے کہ حضرت محمد بن فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو ظفر میں تشریف لے گئے جبکہ آپ کے ہمراہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی تھے۔
آپ نے ایک قاری کو حکم دیا تو اس نے قرآن مجید کی تلاوت شروع کی۔
جب وہ مذکورہ آیت پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گریہ طاری ہوا حتی کہ آپ نے داڑھی کے دونوں کناروں اور رخساروں پر ہاتھ رکھ لیے اور کہا: ’’اے اللہ! میں ان لوگوں کے متعلق گواہی دوں گا۔
جن میں موجود ہوں۔
پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جنھیں میں نے نہیں دیکھا ہے۔
‘‘ (تفسیر ابن أبي حاتم، حدیث: 3584۔
و فتح الباري: 124/9)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم مجھ پر سورۃ نساء پڑھو " میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں " پھر میں نے آپ کو «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد» " اس وقت کیا ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے " (سورة النساء: ۴۱) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3668]
1۔
قرآن مجید سننا سنانا سب سے عمدہ وعظ ہے۔
بشرط یہ کہ انسان اس کے فہم سے آشنا ہو۔
2۔
رسول اللہ ﷺ رونا غالبا اس بنا پر تھا۔
کہ آپﷺ امت پر گواہ ہوں گے۔
جب کہ لوگ نا معلوم کیسے عمل کر کے آئیں گے۔
آیت کریمہ کا ترجمہ یہ ہے۔
پھر ان کا کیا حال ہوگا۔
جس وقت ہم ہر امت میں سے گواہ لایئں گے۔
اور آپ کو اس امت پر گواہ بنایئں گے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: " میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو "، تو میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» " تو اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور پھر ہم تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے " (سورة النساء: 41) پر پہنچا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4194]
فوائد و مسائل:
(1)
جس طرح قرآن کی تلاوت بڑی نیکی ہے اس طرح قرآن سننا بھی ضروری ہے۔
(2)
قرآن کی تلاوت کا دل پر ایک خاص روحانی اثر ہوتا ہے۔
(3)
قرآن کا ترجمہ سیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے تاکہ تلاوت کا دل پر صحیح اثر ہوسکے۔
(4)
قرآن مجید کی تلاوت یا سننے کا اصل مقصد اس کے مطابق اپنی زندگی بنانے کی کوشش ہے۔
(5)
حدیث میں مذکور آیت میں قیامت کا ایک منظر پیش کی گیا ہے۔
اور قیامت خود ایک عبرت انگیز موضوع ہے۔
ضروری ہے کہ وعظ و نصیحت میں اس موضوع کو اہمیت دی جائے۔
پہلی حدیث میں مفضول سے قرآن کریم سننے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ غیر سے قرآن کریم سننے کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں، مثلاً: ① قرآن کریم پر زیادہ غور و فکر کیا جا سکے۔
② قرآن کریم کو دوسرے پر پیش کر کے سنت ثابت کرنا۔
قرآن کریم پر غور وفکر کر نا امت نے چھوڑ دیا ہے، ورنہ امت آ ج جہاں تک پہنچ چکی ہے، یہاں تک کبھی نہ پہنچتی۔ قرآن کریم جس قدر بلند مقام والی کتاب ہے، اسی قدر امت مسلمہ نے اس سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔ قرآن کریم سن کر رونا درست ہے، اور خشیت الہی کی دلیل ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں حافظ صلاح الدین یوسف تم رحمہ اللہ لکھتے ہیں ہر امت میں اس کا پیغمبر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ اے اللہ! ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انہوں نے نہیں مانا تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ پھر ان سب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے کہ اے اللہ! یہ انبیاء کرام علیہم السلام سچے ہیں۔ آپ کی یہ گواہی اس قرآن کی وجہ سے دیں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔ جس میں گزشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت بھی حسب ضرورت بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک سخت مقام ہوگا، اس کا تصور ہی لرزہ براندام کر دینے والا ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ گواہی وہی دے سکتا ہے جو سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھے، اس لیے وہ "شہید" (گواہ) کے معنی "حاضر و ناظر" کے کرتے ہیں۔ یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو "حاضر و ناظر" باور کراتے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر سمجھنا، یہ آپ کو اللہ کی صفت میں شریک کرنا ہے جو شرک ہے، کیونکہ حاضر و ناظر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ "شہید" کے لفظ سے ان کا استدلال اپنے اندر کوئی قوت نہیں رکھتا، اس لیے کہ شہادت یقینی علم کی بنیاد پر بھی ہوتی ہے، اور قرآن میں بیان کردہ حقائق و واقعات سے زیادہ یقینی علم کس کا ہوسکتا ہے؟ اسی یقینی علم کی بنیاد پر خود امت محمدیہ کوبھی قرآن نے «شهـداء على الناس» (تمام کائنات کے لوگوں پر گواہ) کہا ہے، اگر گواہی کے لیے حاضر و ناظر ہونا ضروری ہے تو پھر امت محمدیہ کے ہر فرد کو حاضر و ناظر ماننا پڑے گا۔ بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ مشرکانہ اور بے بنیاد ہیں۔ (تفسیر احسن البيان، ص: 240، 239)
دوسری حدیث پہلی حدیث کا تتمہ ہے، اس میں مزید کچھ اضافہ ہے، جس سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں بھی ہر جگہ حاضر وناظر تھے اور نہ ہی آپ کی وفات کے بعد ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں۔ اس کی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی فرما دی ہے، صرف اللہ تعالیٰ تمام بندوں پر نگران ہے۔