سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا أَسْمَعُ اللَّهَ ذَكَرَ النِّسَاءَ فِي الْهِجْرَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ سورة آل عمران آية 195 " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` اللہ کے رسول ! میں عورتوں کی ہجرت کا ذکر کلام پاک میں نہیں سنتی ، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أني لا أضيع عمل عامل منكم من ذكر أو أنثى بعضكم من بعض» ۱؎ نازل فرمائی ۔
وضاحت:
۱؎: ” تم میں سے کسی عمل صالح کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کروں گا، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو “ (آل عمران: ۱۹۵)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول! میں عورتوں کی ہجرت کا ذکر کلام پاک میں نہیں سنتی، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أني لا أضيع عمل عامل منكم من ذكر أو أنثى بعضكم من بعض» ۱؎ نازل فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3023]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول! میں عورتوں کی ہجرت کا ذکر کلام پاک میں نہیں سنتی، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أني لا أضيع عمل عامل منكم من ذكر أو أنثى بعضكم من بعض» ۱؎ نازل فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3023]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’تم میں سے کسی عملِ صالح کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کروں گا تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘ (آل عمران: 195)
نوٹ:
(سند میں ’’رَجُلٌ مِّنْ وُلْدِ أُمِّ سَلِمَة‘‘ مبہم ہے سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
وضاحت:
1؎:
’’تم میں سے کسی عملِ صالح کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کروں گا تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘ (آل عمران: 195)
نوٹ:
(سند میں ’’رَجُلٌ مِّنْ وُلْدِ أُمِّ سَلِمَة‘‘ مبہم ہے سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3023 سے ماخوذ ہے۔