حدیث نمبر: 3022
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ : " يَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا تَغْزُو النِّسَاءُ ، وَإِنَّمَا لَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَلا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ سورة النساء آية 32 ، قَالَ مُجَاهِدٌ : فَأَنْزَلَ فِيهَا إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ سورة الأحزاب آية 35 وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَوَّلَ ظَعِينَةٍ قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ مُهَاجِرَةً " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ مُرْسَلٌ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَذَا وَكَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` مرد جنگ کرتے ہیں ، عورتیں جنگ نہیں کرتیں ، ہم عورتوں کو آدھی میراث ملتی ہے ( یعنی مرد کے حصے کا آدھا ) تو اللہ تعالیٰ نے آیت «ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم على بعض» ۱؎ نازل فرمائی ۔ مجاہد کہتے ہیں : انہیں کے بارے میں آیت «إن المسلمين والمسلمات» ۲؎ بھی نازل ہوئی ہے ، ام سلمہ پہلی مسافرہ ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ آئیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ مرسل حدیث ہے ، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے ابن ابی نجیح کے واسطہ سے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا ہے ، کہ ام سلمہ نے اس اس طرح کہا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اور اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض کے اوپر جو برتری دی ہے اس کی تمنا نہ کرو (النساء: ۳۲)، اور اس ممانعت سے مراد ایسی تمنا ہے کہ یہ چیز اس کو کیوں ملی ہے ہم کو کیوں نہیں ملی؟ یہ اللہ کی بنائی ہوئی تقدیر پر اعتراض ہے، ہاں یہ تمنا جائز ہے کہ اللہ ہمیں بھی ایسی ہی نعمت سے بہرہ ور فرما دے، شرط یہ ہے کہ یہ چیز بھی اس کے لحاظ سے ممکنات میں سے ہو اپنے لیے کسی غیر ممکن اور محال چیز کی تمنا جائز نہیں، جیسے یہ کہ اللہ مجھے بھی کسی دن امریکا کا صدر بنا دے۔
۲؎: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں … (الاحزاب: ۳۵)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3022
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3022) إسناده ضعيف, السند مرسل وابن أبى نجيح عنعن (د 364)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 18210) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مرد جنگ کرتے ہیں، عورتیں جنگ نہیں کرتیں، ہم عورتوں کو آدھی میراث ملتی ہے (یعنی مرد کے حصے کا آدھا) تو اللہ تعالیٰ نے آیت «ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم على بعض» ۱؎ نازل فرمائی۔ مجاہد کہتے ہیں: انہیں کے بارے میں آیت «إن المسلمين والمسلمات» ۲؎ بھی نازل ہوئی ہے، ام سلمہ پہلی مسافرہ ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ آئیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3022]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’اور اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض کے اوپر جو برتری دی ہے اس کی تمنا نہ کرو‘‘ (النساء: 32)
اور اس ممانعت سے مراد ایسی تمنا ہے کہ یہ چیز اس کو کیوں ملی ہے ہم کو کیوں نہیں ملی؟ یہ اللہ کی بنائی ہوئی تقدیر پر اعتراض ہے ہاں یہ تمنا جائز ہے کہ اللہ ہمیں بھی ایسی ہی نعمت سے بہرہ ور فرما دے شرط یہ ہے کہ یہ چیز بھی اس کے لحاظ سے ممکنات میں سے ہو اپنے لیے کسی غیر ممکن اور محال چیز کی تمنا جائز نہیں جیسے یہ کہ اللہ مجھے بھی کسی دن امریکا کا صدر بنا دے۔

2؎:
’’بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں … ‘‘ (الاحزاب: 35)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3022 سے ماخوذ ہے۔