حدیث نمبر: 3009
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ افْتُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ نَحْوَ هَذَا ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما ارشاد باری «ما كان لنبي أن يغل» کے بارے میں کہتے ہیں : جنگ بدر کے دن ( مال غنیمت میں آئی ہوئی ) ایک سرخ رنگ کی چادر کھو گئی ، بعض لوگوں نے کہا : شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو تو آیت : «ما كان لنبي أن يغل» ۱؎ نازل ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- عبدالسلام بن حرب نے خصیف سے اسی جیسی روایت کی ہے ، ۳- اور بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «خصيف عن مقسم» روایت کی ہے ، لیکن ان لوگوں نے اس روایت میں ابن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہو جائے، ہر خیانت کرنے والا خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہو گا، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور وہ ظلم نہ کئے جائیں گے (آل عمران: ۱۶۱)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3009
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (2788) , شیخ زبیر علی زئی: (3009) إسناده ضعيف / د 3971
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الحروف 3 (3971) ( تحفة الأشراف : 6487) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔`
‏‏‏‏ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما ارشاد باری «ما كان لنبي أن يغل» کے بارے میں کہتے ہیں: جنگ بدر کے دن (مال غنیمت میں آئی ہوئی) ایک سرخ رنگ کی چادر کھو گئی، بعض لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو تو آیت: «ما كان لنبي أن يغل» ۱؎ نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3009]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہو جائے، ہر خیانت کرنے والا خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہوگا، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور وہ ظلم نہ کئے جائیں گے‘‘(آل عمران: 161)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3009 سے ماخوذ ہے۔