سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَالَ : " غُشِينَا وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ أُحُدٍ ، حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ ، وَيَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى الْمُنَاقِدُونَ لَيْسَ لَهُمْ هَمٌّ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ ، أَجْبَنُ قَوْمٍ وَأَرْعَبُهُ وَأَخْذَلُهُ لِلْحَقِّ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ابوطلحہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ ہم جنگ احد میں اپنی صف ( پوزیشن ) میں تھے اور ہم پر غنودگی طاری ہو گئی ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اس دن غنودگی ( نیند ) نے آ گھیرا تھا ، حالت یہ ہو گئی تھی کہ تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹی جا رہی تھی ، میں اسے پکڑ رہا تھا اور میرے ہاتھ سے گری جا رہی تھی ، میں اسے سنبھال رہا تھا ۔ دوسرا گروہ منافقوں کا تھا جنہیں صرف اپنی جانوں کی حفاظت کی فکر تھی ، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ بزدل ، سب سے زیادہ مرعوب ہو جانے والے ( ڈرپوک ) اور حق کا سب سے زیادہ ساتھ چھوڑنے والے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔