حدیث نمبر: 3007
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ : " رَفَعْتُ رَأْسِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ ، وَمَا مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا يَمِيدُ تَحْتَ حَجَفَتِهِ مِنَ النُّعَاسِ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا سورة آل عمران آية 154 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` احد کی لڑائی کے دن میں اپنا سر بلند کر کے ( ادھر ادھر ) دیکھنے لگا ، اس دن کوئی ایسا نہ تھا جس کا سر نیند سے ( بوجھل ) اپنے سینے کے نیچے جھکا نہ جا رہا ہو ، اللہ تعالیٰ کے قول «ثم أنزل عليكم من بعد الغم أمنة نعاسا» ۱؎ کا مفہوم و مراد یہی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں ایک جماعت کو چین کی نیند آنے لگی (آل عمران: ۱۵۴)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3007
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المغازي 21 (4068) ، وتفسیر آل عمران 11 (4562) ( تحفة الأشراف : 3771) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کی لڑائی کے دن میں اپنا سر بلند کر کے (ادھر ادھر) دیکھنے لگا، اس دن کوئی ایسا نہ تھا جس کا سر نیند سے (بوجھل) اپنے سینے کے نیچے جھکا نہ جا رہا ہو، اللہ تعالیٰ کے قول «ثم أنزل عليكم من بعد الغم أمنة نعاسا» ۱؎ کا مفہوم و مراد یہی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3007]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں ایک جماعت کو چین کی نیند آنے لگی (آل عمران: 154)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3007 سے ماخوذ ہے۔