سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 2985
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «صلاة الوسطى» سے مراد عصر کی نماز ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں زید بن ثابت ، ابوہاشم بن عتبہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 181 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´صلاۃ وسطیٰ ہی صلاۃ عصر ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ صلاۃ ظہر ہے۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 181]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 181]
اردو حاشہ:
1؎:
وسطیٰ یہ اس لیے ہے کہ یہ دن اور رات کی نمازوں کے بیچ میں واقع ہے۔
1؎:
وسطیٰ یہ اس لیے ہے کہ یہ دن اور رات کی نمازوں کے بیچ میں واقع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 181 سے ماخوذ ہے۔