سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ : قَالَ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَفِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِيَّايَ عَنَى بِهَا فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ، وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاحْلِقْ ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ " ، قَالَ مُجَاهِدٌ : الصِّيَامُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، وَالطَّعَامُ لِسِتَّةِ مَسَاكِينَ ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ فَصَاعِدًا " .´مجاہد کہتے ہیں کہ` کعب بن عجرہ رضی الله عنہ نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ آیت : «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ” البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو اس پر فدیہ ہے ، خواہ روزے رکھ لے ، خواہ صدقہ دے ، خواہ قربانی کرے “ ( البقرہ : ۱۹۶ ) ، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے ، احرام باندھے ہوئے تھے ، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا ، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے ، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس سے ہوا ( ہمیں دیکھ کر ) آپ نے فرمایا : ” لگتا ہے تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” سر لو مونڈ ڈالو “ ، پھر یہ آیت ( مذکورہ ) اتری ۔ مجاہد کہتے ہیں : روزے تین دن ہیں ، کھانا چھ مسکینوں ۱؎ کو کھلانا ہے ۔ اور قربانی ( کم از کم ) ایک بکری ، اور اس سے زیادہ بھی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مجاہد کہتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی الله عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ آیت: «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ” البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈا لے) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے “ (البقرہ: ۱۹۶)، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2973]
وضاحت:
1؎:
البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈا لے) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے (البقرۃ: 196) 2؎: دوسری حدیث میں صراحت آ گئی ہے کہ تین صاع چھ مسکین کو کھلائے یعنی فی مسکین آدھا صاع (جو بھی کھانا وہاں کھایا جاتا ہو)
یہی احادیث اور باب میں وجہ مطابقت ہے۔
حالت احرام میں ایسی بیماری سے سر منڈوا دینا جائز ہے۔
مگر اس کے فدیہ میں یہ کفارہ ادا کرنا ہوگا۔
1۔
ان دونوں احادیث میں حضرت کعب بن عجرہ ؓ کا واقعہ بیان ہوا ہے اور کعب بن عجرہ ؓ صلح حدیبیہ میں شامل تھے۔
اس عنوان کے تحت جتنی احادیث بیان کی گئی ہیں ان کا کسی نہ کسی طرح صلح حدیبیہ سے تعلق ہے۔
2۔
اس آیت کریمہ میں جس کو روک دیا جائے اس کے دم دینے کا ذکر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگر تم روک دیےجاؤ تو جو قربانی میسر ہو(وہی کرو)
اور اپنے سر اس وقت تک نہ مونڈو جب تک قربانی اپنے حلال ہونے کی جگہ پر نہ پہنچ جائے۔
‘‘ (البقرة: 196/2)
3۔
کعب بن عجرہ ؓ کو ایک تکلیف تھی اس بنا پر حدث میں ایک استثنائی صورت کوبیان کیا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
حضرت کعب بن عجرہ ؓ کے بال گھنے اور لمبے تھے، عمرہ حدیبیہ کے موقع پر ان کے سر میں اتنی جوئیں پڑ گئیں کہ ان کے چہرے پر گرنے لگیں تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ فدیے کا بندوبست کرکے اپنے سر کو منڈوا دو۔
اس حدیث نے آیت کریمہ کی وضاحت کردی کہ محرم آدمی اگر کسی وجہ سے اپناسرمنڈوا دے تو وہ تین دن کے روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا کم از کم ایک بکری ذبح کرے۔
2۔
یہ اس صورت میں ہے جب کسی مجبوری کی وجہ سے دس ذوالحجہ سے پہلے محرم آدمی اپنا سرمنڈوا دے۔
روزوں کے علاوہ کھانا کھلانے یا قربانی دینے کی جگہ کے متعلق اختلاف ہے۔
بعض حضرات کی رائے ہے کہ کھانا یا قربانی مکہ ہی میں دی جائے جبکہ دوسرے اہل علم کا خیال ہے کہ روزوں کی طرح ان کے لیے کوئی خاص جگہ متعین نہیں ہے۔
علامہ شوکانی ؒ نے اس آخری رائے سے اتفاق کیاہے۔
واللہ اعلم۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ مجھے جوئیں تنگ کر رہی ہیں۔
انہوں نے بھی اپنی تکلیف کا اظہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔
یہ بطور شکوہ نہیں تھا بلکہ اس لیے کہ آپ کوئی حل بتائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلیف کا ازالہ اس طرح فرمایا کہ حجام کو بلا کر ان کے بال صاف کرا دیے تاکہ جوؤوں کی تکلیف سے انہیں نجات مل جائے، پھر اس کے بدلے فدیہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
(2)
بہرحال اگر کوئی اپنے بھائیوں سے اپنی تکلیف کا اظہار کرتا ہے تاکہ وہ اس کا ازالہ کریں یا اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو مخلوق کے سامنے تکلیف کا اظہار ممنوع شکوہ نہیں ہے۔
(1)
احرام کی حالت میں سر منڈوانا جائز نہیں مگر تکلیف دہ حالت میں سر منڈوانا جائز ہے لیکن اس کا کفارہ دینا ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو سر منڈوانے کی اجازت دی تو ساتھ ہی کفارہ دینے کا حکم بھی دیا جس کی تفصیل حدیث میں مذکور ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث یہاں اس لیے بیان کی ہے کہ اگر محرم آدمی کو سینگی لگوانے کے لیے سر کے کچھ بال منڈوانے کی ضرورت ہو تو انہیں منڈوا دے۔
جب محرم کو سارا سر منڈوانے کی اجازت ہے تو کچھ حصے کی تو بالاولیٰ اجازت ہونی چاہیے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کفارہ دے۔
(فتح الباري: 191/10)
1۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ سے روانگی کے بعد ذوالحلیفہ سے احرام باندھا تھا۔
آٹھ دن کے سفر کے بعد مکہ کے قریب پہنچ گئے تھے۔
کفارقریش نے آپ کوعمرے سے روک دیا۔
وہاں کئی دن ایک دوسرے سے بات چیت کرنے میں لگ گئے حتی کہ کعب بن عجرہ ؓ کو جوئیں پڑ گئیں اورکثرت سے ان میں اضافہ ہوا، یہاں تک ہنڈیا پکاتے وقت منہ پر گرنے لگیں۔
انھیں مارنے کی بھی اجازت نہیں تھی اور نہ احرام کی حالت میں انھیں پکڑ کر پھینکنے کی اجازت ہی تھی۔
ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ نے انھیں سرمنڈانے کا حکم دیا۔
پھر اس پاداش میں فدیہ دینے کے متعلق فرمایا۔
یہ فدیہ احرام کھولنے کی وجہ سے نہیں تھا اور سرمنڈانے کا حکم سر میں جووؤں کی تکلیف کی بنا پر تھا۔
2۔
واضح رہے کہ فرق ایک پیمانہ ہے جو موجود وزن کے مطابق تقریباً چھ کلوتین سوگرام کا ہوتا ہے۔
مگر امام بخاری اس باب میں اس کو اس لیے لائے کہ جیسے حج کے فدیہ میں اختیار ہے تینوں میں سے جو چاہے وہ کرے ایسے ہی قسم کے کفارہ میں بھی قسم کھانے والے کو اختیار ہے کہ تینوں کفاروں میں سے جو قرآن میں مذکورہ ہیں جو کفارہ چاہے ادا کرے۔
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنا سر منڈوا دو لیکن تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا ایک بکری ذبح کر دو۔
‘‘ (صحیح البخاري، المحصر، حدیث: 1814)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کا حوالہ اس لیے دیا ہے کہ قسم کے کفارے میں انسان کو اختیار ہے، ان میں سے جسے چاہے اختیار کرے، جیسا کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارۂ اذی، یعنی حالت احرام میں کسی مجبوری اور ضرورت کی بنا پر سر کے بال منڈوانے کے کفارے میں اختیار دیا تھا کیونکہ کفارۂ یمین اور کفارۂ اذی، اختیار میں دونوں ایک جیسے ہیں بلکہ کفارۂ یمین میں ترتیب کا اضافہ ہے، اس لیے قسم کے کفارے میں کھانا کھلانے، لباس دینے اور غلام آزاد کرنے میں اختیار ہے پھر ان تینوں اور تین دن کے روزے رکھنے میں ترتیب ہے، جبکہ کفارۂ اذی میں روزے رکھنے، کھانا کھلانے اور قربانی دینے میں اختیار ہے، ان میں ترتیب وغیرہ نہیں ہے۔
واللہ أعلم (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ذکر کرنے کی ایک دوسری توجیہ بیان کی ہے، فرماتے ہیں: امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود ان لوگوں کی تردید کرنا ہے جو کہتے ہیں: پانچ مساکین کو کھانا اور پانچ کو لباس دیا جا سکتا ہے، اسی طرح پانچ کو لباس اور نصف غلام آزاد کیا جا سکتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ موقف ہے کہ آیت کریمہ کے مطابق اختیار کی یہ توجیہ غلط ہے بلکہ دس مساکین کو کھانا دیا جائے یا دس مساکین کو لباس پہنایا جائے یا ایک غلام آزاد کیا جائے۔
اگر تینوں میسر نہیں ہیں تو تین دن کے روزے رکھ لیے جائیں۔
(فتح الباري: 725/11)
کے تحت پھر تو توبہ استغفار بھی کفارہ ہو جائے گا، ہاں مقدور کی حالت میں ضرور ضرور حکم شرعی بجالانا ضروری ہوگا، ورنہ حج میں نقص رہنا یقینی ہے۔
حافظ فرماتے ہیں أَيْ لِكُلِّ مِسْكِينٍ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُشِيرُ بِذَلِكَ إِلَى الرَّدِّ عَلَى مَنْ فَرَّقَ فِي ذَلِك بَين الْقَمْح وَغَيره قَالَ بن عَبْدِ الْبَرِّ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَالْكُوفِيُّونَ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ وَصَاعٌ مِنْ تَمْرٍ وَغَيْرِهِ وَعَنْ أَحْمَدَ رِوَايَةٌ تُضَاهِي قَوْلَهُمْ قَالَ عِيَاضٌ وَهَذَا الْحَدِيثُ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ (فتح الباري)
وَفِي حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ مِنَ الْفَوَائِدِ غَيْرُ مَا تَقَدَّمَ أَنَّ السُّنَّةَ مُبَيِّنَةٌ لِمُجْمَلِ الْكِتَابِ لِإِطْلَاقِ الْفِدْيَةِ فِي الْقُرْآنِ وَتَقْيِيدِهَا بِالسُّنَّةِ وَتَحْرِيمِ حَلْقِ الرَّأْسِ عَلَى الْمُحْرِمِ وَالرُّخْصَةِ لَهُ فِي حَلْقِهَا إِذَا آذَاهُ الْقَمْلُ أَوْ غَيْرُهُ مِنَ الْأَوْجَاعِ وَفِيهِ تَلَطُّفُ الْكَبِيرِ بِأَصْحَابِهِ وَعِنَايَتُهُ بِأَحْوَالِهِمْ وَتَفَقُّدُهُ لَهُمْ وَإِذَا رَأَى بِبَعْضِ أَتْبَاعِهِ ضَرَرًا سَأَلَ عَنْهُ وَأَرْشَدَهُ إِلَى الْمَخْرَجِ مِنْهُ یعنی ہر مسکین کے لیے ہر ایک چیز سے، اس میں اس شخص کے اوپر رد کرنا مقصو دہے جس نے اس بارے میں گندم وغیرہ کا فرق کیا ہے۔
ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ؒ اور اہل کوفہ کہتے ہیں کہ گندم کا نصف صاع اور کھجور وں کا ایک صاع ہونا چاہئے۔
امام احمد کا قول بھی تقریباً اسی کے مشابہ ہے۔
قاضی عیاض نے فرمایا کہ حدیث کعب بن عجرہ ان کی تردید کر رہی ہے، اور اس حدیث کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ قرآن کے کسی اجمالی حکم کی تفصیل سنت رسول بیان کرتی ہے۔
قرآن مجید میں مطلق فدیہ کا ذکر تھا تو سنت نے اسے مقید کر دیا اور اس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ محرم کے لیے سر منڈانا حرام ہے اور جب اسے جوؤں وغیرہ کی تکلیف ہو تو وہ منڈا سکتا ہے اور اس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ بڑے لوگوں کو ہمیشہ اپنے ساتھیوں پر نظر عنایت رکھتے ہوئے ان کے دکھ تکلیف کا خیال رکھنا چاہئے کسی کو کچھ بیماری وغیرہ ہو جائے تو اس کے علاج کے لیے ان کو نیک مشورہ دینا چاہئے۔
(1)
بعض حضرات نے گندم اور کھجور کا فرق کیا ہے کہ گندم کا نصف صاع اور کھجوروں کا ایک صاع ہر مسکین کو دیا جائے لیکن مذکورہ حدیث اس موقف کی تردید کرتی ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے ان حضرات کی تردید کرنا مقصود ہے جو اس کے متعلق گندم وغیرہ میں فرق کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 22/4) (2)
فدیے کی مذکورہ کیفیت میسر ہونے کی صورت میں ہے، بصورت دیگر تنگ دستی کی صورت میں توبہ و استغفار ہی اس کے لیے کفارہ ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی ہمت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، البتہ صاحب حیثیت کے لیے شرعی حکم بجا لانا ضروری ہے، ورنہ حج میں نقص رہ جائے گا۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سنت (حدیث)
قرآن کے اجمال کی تفصیل بیان کرتی ہے کیونکہ قرآن کریم میں مطلق فدیے کا ذکر تھا سنت، یعنی حدیث نے اسے مقید کیا ہے۔
واللہ أعلم
قربانی جو آسان ہو یعنی بکرا ہو اور کوئی جانور جو بھی آسانی سے مل سکے قربان کردو۔
(1)
قرآن کریم میں مطلق روزوں اور مطلق صدقے کا ذکر تھا، رسول اللہ ﷺ نے اپنے منصب کے پیش نظر اس کی تفسیر فرمائی کہ روزے تین دن اور صدقہ چھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے، نیز آیت کریمہ میں کسی ایک چیز کو بجا لانے کا اختیار اس شخص کو ہے جسے قربانی بھی میسر ہو، بصورت دیگر صرف روزوں اور صدقے میں اختیار ہو گا۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ تین صاع کھجور چھ مساکین کو کھلاؤ۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2882(1201) (2)
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک فرق میں تین صاع ہوتے ہیں اور فرق مدینہ طیبہ کا مشہور پیمانہ ہے جس میں سولہ رطل ہوتے ہیں۔
جب ایک فرق میں تین صاع ہوتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں صراحت ہے (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2882(1201)
تو اس کا تقاضا ہے کہ اس صاع میں 5 1/3 یعنی 5.33 رطل ہوں، اس صورت میں ایک فرق میں سولہ رطل ہو سکتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ ایک صاع میں آٹھ رطل نہیں ہوتے جیسا کہ اہل کوفہ کی رائے ہے۔
(فتح الباري: 21/4،22)
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت محرم اپنا سر منڈوا سکتا ہے، پھر اس پر کفارہ واجب ہے جس کی تفصیل آیت کریمہ اور حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔
(2)
امام بخاری ى نے دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ فدیہ دینے میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت کعب بن عجرہ ؓ کو اختیار دیا تھا۔
حضرت ابن عباس ؓ، حضرت عطاء اور حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں لفظ "أو" استعمال ہوا ہے وہ ’’اختیار‘‘ کے لیے ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی تائید میں ایک روایت بھی درج کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت کعب بن عجرہ ؓ کو فرمایا: ’’اگر چاہو تو بکری ذبح کرو، اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھ لو اور اگر چاہو تو مساکین کو کھانا کھلا دو۔
‘‘ (سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1857)
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے، حضرت کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں: مقام حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میرے سر سے جوئیں گر رہی تھیں۔
آپ نے فرمایا: ’’جوئیں تیرے لیے تکلیف کا باعث ہیں؟‘‘ میں نے کہا: جی ہاں۔
آپ نے فرمایا: ’’اپنا سر منڈوا دو۔
‘‘ چنانچہ مذکورہ آیت مبارکہ میرے متعلق نازل ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: ’’تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں میں ایک فرق غلہ تقسیم کرو یا جو قربانی میسر ہو اسے ذبح کرو۔
‘‘ (صحیح البخاري، المحصر، حدیث: 1815)
دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ نے اپنا سر منڈوا دیا تھا اور کفارے کے طور پر تین دن کے روزے رکھے تھے۔
اگرچہ بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے چھ مساکین کو کھانا کھلانے کا انتخاب کیا تھا لیکن اس کی سند صحیح نہیں۔
(فتح الباري: 21/4)
ِقدَرَ اور بُرمة: دونوں کا معنی ہنڈیا کیتلی ہے۔
هَوَام: هامة کی جمع ہے، ہر زہریلی چیز کو کہتے ہیں اور اس کا اطلاق کیڑے مکوڑوں پر بھی ہوجاتا ہے۔
سفرحدیبیہ کے دوران حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرے دیکھا کہ وہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلارہے ہیں اور ان کےسر سے جوئیں ان کے چہرہ پر گررہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے پوری طرح جائزہ لیے بغیر ان سے پوچھا کہ کیا یہ جوئیں تیرے لیے تکلیف کا باعث بن رہی ہیں حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہاں میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتا دیا کہ سرمنڈوالو اور جو فدیہ سہولت وآسانی کے ساتھ میسر ہو دے دو، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے بعد میں کسی ساتھی نے حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تکلیف کی شدت کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوا بھیجا تکلیف کی شدت کی بنا پر انہیں اٹھا کر لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت قریب سے ان کا جائزہ لیا اور تکلیف کی شدت دیکھ کرفرمایا میں نے اس وقت جب تمھیں پہلے دیکھا تھا اس قدر تکلیف محسوس نہیں کی تھی۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوری سرمنڈوانے والے کو بلوا کر سرمنڈوایا اور انہیں کفارہ کی تلقین کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہ حکم وحی خفی کے ذریعہ دیا تھا۔
بعد میں اس کی تائید میں قرآنی صورت میں وحی جلی کا نزول ہوا۔
لیکن اس میں کفارے کا بیان اجمالی انداز میں ہے اس کی تفصیل ووضاحت وحی خفی (حدیث)
میں موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے قرآن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔
قرآن میں صرف روزوں اور صدقہ کا تذکرہ ہے لیکن کتنے روزے رکھے جائیں اور کتنی مقدار میں صدقہ ادا کیاجائے اس کی تفصیل اور وضاحت موجود نہیں ہے۔
اس طرح نسیکہ کی وضاحت نہیں، ان چیزوں کی تفصیل اور تفسیر حدیث میں موجود ہے۔
2۔
اگر محرِم کوسر کی کسی تکلیف کی بنا پر سرمنڈوانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بالاتفاق سرمنڈوا سکتا ہے اور اس کا اسے فدیہ ادا کرنا ہو گا کہ وہ تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے، یعنی ہر مسکین کو آدھا صاع خوراک مہیا کرے یا بکری کی قربانی کرے۔
ائمہ ثلاثہ اما مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اور محدثین رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ہر قسم کا غلہ و اناج نصف صاع ادا کرنا ہوگا۔
لیکن امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک گندم کا نصف صاع ہوگا اور باقی اجناس پورا صاع دینا ہوں گی، حالانکہ حدیث میں کھجور کے تین صاع کی صراحت موجود ہے۔
یعنی ہر ایک مسکین کو آدھا صاع کھجور دی جائے اور ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ قربانی صدقے اورروزے میں ترتیب ضروری نہیں ہے کہ اگر قربانی نہ کرسکتا ہو تو پھر روزے رکھے روزے نہ رکھتا ہو تو پھر صدقہ کرے۔
بلکہ اختیار ہے تین کاموں میں سے جو چاہے کرلے۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے؟ “ کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سر منڈوا دو، پھر ایک بکری ذبح کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1856]
➋ ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے۔اور ایک مد تقریباً 9 چھٹانک کا۔تین صاع چھ مسکینوں پر تقسیم کریں گے۔تو ہر مسکین کو دو مد (18چھٹا نک) ملیں گے۔ پس یہی فدیے کا حساب ہوا۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑ گئیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه» کی آیت نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا: ” تم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو ایک فرق ۱؎ منقٰی کھلاؤ، یا پھر ایک بکری ذبح کرو “ چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1860]
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا: ” (اس کے کفارہ کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو، ان تینوں میں سے جو بھی کر لو گے تمہاری طرف سے کافی ہو جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2854]
(2) معلوم ہوا کسی تکلیف کی وجہ سے محرم کو سر منڈانا پڑے، تو اسے فدیہ دینا ہوگا کیونکہ سر منڈانا احرام کے منافی ہے، کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا سر منڈوانا جوؤں کی وجہ سے تھا سینگی کا حکم اس سے مختلف ہے۔
(3) ’’جو کام بھی تم کرو گے“ گویا ان میں کوئی ترتیب نہیں، جبکہ بعض دوسرے کفارات میں ترتیب ہے۔
(4) حدیث، قرآن کے مجمل احکام کی وضاحت کرتی ہے۔
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا: ” جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2855]
(2) ”تشریف لائے“ یہ آپ کے اخلاق کی عمدہ مثال ہے۔
(3) ”صدقہ کر دو“ یعنی ہر مسکین کو نصف صاع (تقریباً سوا کلو) غلہ دے دو۔ گویا ایک روزے کے بدلے میں دو مسکینوں کو غلہ دیا جائے گا۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس وقت جوؤں نے مجھے پریشان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا سر منڈوا ڈالوں، اور تین دن روزے رکھوں، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرے پاس قربانی کے لیے کچھ نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3080]
فوائد و مسائل:
(1)
احرام کی حالت میں سر منڈوانا اور بال کاٹنا منع ہے۔
(2)
اگر کسی عذر کی وجہ سے وہ کام کرنا پڑے جو احرام کی حالت میں جائز نہیں تو فدیہ دینا پڑے ہوگا۔
(3)
فدیہ ایک بکری ہے۔
اگر یہ ممکن نہ ہوتو تین روزے رکھ لیے جائیں یا چھ مسکینوں کو آدھا آدھا صاع غلہ دےدیا جائے۔
«. . . 397- مالك عن عبد الكريم بن مالك الجزري عن مجاهد عن عبد الرحمن بن أبى ليلى عن كعب بن عجرة أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فآذاه القمل فى رأسه، فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يحلق رأسه وقال: ”صم ثلاثة أيام، أو أطعم ستة مساكين مدين مدين لكل إنسان، أو انسك بشاة، أى ذلك فعلت أجزأ عنك.“ . . .»
”. . . سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (حج کے دوران میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو انہیں (کعب رضی اللہ عنہ کو) سر میں جوئیں تکلیف دے رہی تھیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ سر منڈوالو اور فرمایا: ”تین دن روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ہر انسان کو دو دو مد یا ایک بکری کی قربانی دو، ان میں سے جو بھی کرو گے وہ تمہاری طرف سے کافی ہے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 335]
[وأخرجه ابوداود 1861، من حديث مالك به مختصراً ورواه البخاري 1815، ومسلم 1201، من حديث مجاهد عن عبدالرحمٰن بن ابي ليليٰ به]
تفقه:
➊ ایک مُد چوتھائی صاع کو کہتے ہیں۔
➋ اگر حالتِ احرام میں کسی بیماری کی وجہ سے سر منڈوانا پڑے تو اس کے کفارے میں تین روزے رکھنا ہوں گے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا پھر ایک بکری کا ذبح کر کے حرم کے مساکین میں تقسیم کرنا ہو گا۔
➌ احرام کے علاوہ ہر وقت سر منڈانا جائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا جس کے سر کے بالوں کا بعض حصہ مونڈا ہوا تھا اور بعض چھوڑا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: «احلقوہ کله أو اترکوہ کله۔» اس کا سارا سر منڈوا دو یا سارا چھوڑ دو۔ [سنن ابي داود: 4195 وسنده صحيح]
● یہ حدیث سب لوگوں کے لئے عام ہے لیکن عورتوں کی تخصیص دوسری صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ عورتوں کے لئے سر منڈانا منع ہے۔ دیکھئے [سنن ابي داود 1985، وسنده حسن وحسنه الحافظ ابن حجر رحمه الله فى التلخيص الحبير 2/261 ح1058]
➍ سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ نے مدینے میں قربانی کی اور اپنا سر مونڈا یعنی منڈوایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه 237/3 ح13888، وسنده صحيح] نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو: 27ص 46
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میرا یہ خیال نہ تھا کہ تم کو بیماری نے اس حالت کو پہنچا دیا ہو گا جو میں دیکھ رہا ہوں، کیا تیرے پاس بکری ہے؟ “ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تین دن روزہ رکھ یا چھ مسکینوں کو آدھا صاع ہر مسکین کے حساب سے کھانا دے۔ “ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 603]
«حُمَلْتُ» صیغۂ مجہول ہے، یعنی مجھے اٹھا کر لایا گیا۔
«الْقَمْلُ» ”قاف“ پر زبر اور ”میم“ ساکن ہے۔ چھوٹے چھوٹے حشرات جنہیں جویٔں کہتے ہیں۔
«يَتَناثَرُ» یعنی کثرت کی وجہ سے وہ سر سے میرے منہ پر گر رہی تھیں اور حضرت کعب رضی اللہ عنہ انہیں مارتے نہیں تھے کیونکہ وہ محرم تھے۔
«مَا كُنْتُ أُرٰي» ، «أُرٰي» کے ”ہمزہ“ پر پیش ہے۔ صیغۂ مجہول ہے یعنی مجھے گمان نہ تھا۔
«الْوَجَعَ» تکلیف۔
«مَاأَرٰي» ”ہمزہ“ پر زبر۔ رؤیت بصری سے مشتق ہے، یعنی جو میں دیکھ رہا ہوں۔
«أَتَجِدُ شَاة» یعنی حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی یہ حالت دیکھ کر آپ نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا اور اس کے کفارے کے طور پر ایک بکری ذبح کرنے یا تین دن روزے رکھنے کا یا چھ مساکین کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔ ان تینوں میں سے کوئی کام بھی کیا جا سکتا یے کیونکہ آپ نے اختیار دیا تھا۔
راویٔ حدیث:
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ، عجرہ میں ”عین“ پر پیش اور ”جیم“ ساکن ہے۔ یہ جلیل القدر صحابی قبیلہ ”بلي“ سے تعلق رکھتے تھے جو انصار کا حلیف تھا، کوفہ چلے گئے تھے۔ بلآخر مدینہ طیبہ میں 51 ھجری میں 75 سال کی عمر میں وفات پائی۔