سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : " كَانُوا رُكُوعًا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَعُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` لوگ فجر کی نماز ۱؎ میں حالت رکوع میں تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عمرو بن عوف مزنی ، ابن عمر ، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یہ مسجد قباء کا واقعہ ہے صحیح بخاری میں اس کی صراحت آئی ہے، وہاں تحویل قبلہ کی خبر فجر میں ملی تھی، اور پچھلی حدیث میں جو واقعہ ہے وہ بنو حارثہ کی مسجد کا واقعہ ہے۔ جسے مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ فجر کی نماز ۱؎ میں حالت رکوع میں تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2963]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ فجر کی نماز ۱؎ میں حالت رکوع میں تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2963]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ مسجد قباء کا واقعہ ہے صحیح بخاری میں اس کی صراحت آئی ہے، وہاں تحویل قبلہ کی خبر فجر میں ملی تھی، اور پچھلی حدیث میں جو واقعہ ہے وہ بنو حارثہ کی مسجد کا واقعہ ہے۔
جسے مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
یہ مسجد قباء کا واقعہ ہے صحیح بخاری میں اس کی صراحت آئی ہے، وہاں تحویل قبلہ کی خبر فجر میں ملی تھی، اور پچھلی حدیث میں جو واقعہ ہے وہ بنو حارثہ کی مسجد کا واقعہ ہے۔
جسے مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2963 سے ماخوذ ہے۔