حدیث نمبر: 2956
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : " ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا سورة النساء آية 154 ، قَالَ : دَخَلُوا مُتَزَحِّفِينَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ " ، أَيْ مُنْحَرِفِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ : «ادخلوا الباب سجدا» ” اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا “ ( البقرہ : ۵۸ ) کے بارے میں فرمایا : ” بنی اسرائیل چوتڑ کے بل کھسکتے ہوئے داخل ہوئے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 28 (3403) ، وتفسیر البقرة 5 (4479) ، وسورة الأعراف 4 (4641) ، صحیح مسلم/التفسیر ح 1 (3015) ( تحفة الأشراف : 14697) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3403 | صحيح البخاري: 4479 | صحيح البخاري: 4641 | صحيح مسلم: 3015 | صحيفه همام بن منبه: 116

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ادخلوا الباب سجدا» اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا (البقرہ: ۵۸) کے بارے میں فرمایا: بنی اسرائیل چوتڑ کے بل کھسکتے ہوئے داخل ہوئے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2956]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا (البقرۃ: 58)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2956 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4641 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4641. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا: "تم دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو کہ ہمیں معاف کر دیا جائے، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے۔" انہوں نے اس حکم کو یوں بدلا کہ وہ سرینوں کو گھسیٹتے ہوئے اور حِطَّةٌ کے بجائے حبة ’’بالی میں دانہ‘‘ کہتے داخل ہوئے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4641]
حدیث حاشیہ: بنی اسرائیل کی ایک حرکت کا بیان ہے کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل ڈالا اور خدا کی لعنت میں گرفتار ہوئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4641 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4641 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4641. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا: "تم دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو کہ ہمیں معاف کر دیا جائے، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے۔" انہوں نے اس حکم کو یوں بدلا کہ وہ سرینوں کو گھسیٹتے ہوئے اور حِطَّةٌ کے بجائے حبة ’’بالی میں دانہ‘‘ کہتے داخل ہوئے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4641]
حدیث حاشیہ:

قرآن کریم میں ہے: "پھر ان ظالموں نے اس بات کو بدل ڈالا جو ان سے کہی گئی تھی تو ہم نے بھی ان ظلم پیشہ لوگوں پر ان کے فسق ونافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل کیا۔
" (البقرة: 59/2)
بہرحال ان بدبختوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پوری پوری نافرمانی کی۔
فتح کے بعد ان میں عجزوانکسار کے بجائے فخروگھمنڈ پیدا ہوگیا اور وہ اترانے لگے۔

اس واقعے سے ان کی نافرمانی اور سرکشی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو ان کے اندر پیدا ہوگئی تھی اور احکام الٰہی سے تمسخر اور استہزاء کا بھی پتہ چلتا ہے، واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اخلاق و کردار کے لحاظ سے زوال پذیر ہوجائے تو اس کا معاملہ احکام الٰہیہ کے ساتھ اسی طرح کا ہوجاتا ہے جیسا کہ بنی اسرائیل نے کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں اس خلاف ورزی کی پاداش میں طاعون جیسے موذی مرض میں مبتلا کردیا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’یہ طاعون اسی رجز اورعذاب کاحصہ ہے جو تم سے پہلے کچھ لوگوں پر نازل ہوا۔
‘‘ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5772(2218)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4641 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4479 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4479. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا: ’’تم دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے اور گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے داخل ہو جاؤ۔‘‘ لیکن وہ سرینوں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے اور معافی مانگنے کے بجائے وہ ’’بالی میں دانہ‘‘ کہتے رہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4479]
حدیث حاشیہ: خلاصہ یہ کہ بنی اسرائیل نے اللہ کے حکم کو بدل دیا اورالٹا حکم الٰہی کا مذاق اڑانے لگے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ عذاب میں گرفتار ہوئے۔
ایسے گستاخوں کی یہی سزاہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4479 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4479 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4479. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا: ’’تم دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے اور گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے داخل ہو جاؤ۔‘‘ لیکن وہ سرینوں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے اور معافی مانگنے کے بجائے وہ ’’بالی میں دانہ‘‘ کہتے رہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4479]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے بنی اسرائیل کی شر کشی اور احکام الٰہی سے استہزاء کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
ان ظالموں نے تعمیل حکم کے بجائے کردارو گفتا ر دونوں میں مخالفت کی اور دنیا طلبی میں لگ گئے۔
اس پر استزاد یہ کہ وہ تحریف کے بھی مرتکب ہوئے چنانچہ وہ اس جرم کی پاداش میں سنگین سزا سے دوچار ہوئے۔
ان پر طاعون کا عذاب آیا۔

واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اخلاق و کردار کے لحاظ سے اس حد تک زوال پذیر ہو جائے تو پھر قانون الٰہی کے مطابق انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4479 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3403 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3403. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ تم سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہوجاؤ اور حِطَّةٌ کہو، یعنی ہمارے گناہ معاف کردے۔ انھوں نے اسے تبدیل کردیا اور ا پنے سرینوں کو گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے جبکہ زبان سے حبة في شعرة کہہ رہے تھے۔ اس کے معنی ہیں: بالیوں میں دانے خوب ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3403]
حدیث حاشیہ: پروردگار سےٹھٹھا کےطور پر یہ کہنا شروع کیا تو خدا کےغضب میں گرفتار ہوئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3403 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3403 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3403. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ تم سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہوجاؤ اور حِطَّةٌ کہو، یعنی ہمارے گناہ معاف کردے۔ انھوں نے اسے تبدیل کردیا اور ا پنے سرینوں کو گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے جبکہ زبان سے حبة في شعرة کہہ رہے تھے۔ اس کے معنی ہیں: بالیوں میں دانے خوب ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3403]
حدیث حاشیہ:

بنی اسرائل سے کہا گیا تھا کہ جب تم بیت المقدس میں داخل ہو تو سر جھکاتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے اندرجاؤ لیکن انھوں نےسارا پروگرام ہی تبدیل کردیا۔
سرجھکانےکے بجائے اکڑ اکڑ کر داخل ہوئے اور زبان سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی بجائے مہمل کلام بکنے لگے۔
یہ ان کی نادانی اور سرکشی تھی اور ان کا مقصد اللہ کے حکم کی مخالفت کرنا تھا۔
اس بنا پر وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوئے۔
ان پر طاعون کی بیماری مسلط کردی گئی چنانچہ ستر ہزار بنی اسرائیل ایک گھڑی میں لقمہ اجل بن گئے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہمیشہ عجز و انکسار اختیار کرتے ہوئےاللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنی چاہیے ان پر اصرار کرتے ہوئے اکڑنا اللہ کی طرف سے عذاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
أعاذنا اللہ منها۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3403 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 3015 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمام بن منبہ رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ احادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بنو اسرائیل کو حکم دیاگیا،دروازہ سے گزرو،جھکتے ہوئے اور کہنا،معافی کی درخواست ہے،تمہاری خطائیں معاف کردی جائیں گی،توانہوں نے تبدیلی کردی،سودروازے سے گزرے اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے اور کہنے لگے،دانہ بالی میں،(مطلوب ہے)" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7523]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بنو اسرائیل کے، جب من اور سلویٰ سے دل بھر گئے اور انہوں نے زمینی غذاؤں کا مطالبہ کیا، تو انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے، سجدہ ریز ہوکر یا عاجزی وفروتنی اختیار کرتے ہوئے، جھک کر دروازہ سے گزریں، لیکن انہوں نے اپنی روایتی سر کشی سے کام لیتے ہوئے، اس حکم کا مذاق اڑایا، سجدہ یا عاجزی وانکساری کی بجائے، تکبرو گھمنڈ سے سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے اور معافی کی بجائے، بالیوں میں دانہ مانگتے ہوئے دروازہ سے گزرے، اُستَاه، است (سرین)
کی جمع ہے۔
اور دروازہ کس بستی یا شہر کا تھا، اس کے بارے میں اختلاف ہے، حافظ ابن کثیر نے بیت المقدس دروازہ مرادلیا، بعض نے کہا باب لداوربعض نے باب اریحاء اور بعض نے کہا کوئی مصری شہر مراد ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3015 سے ماخوذ ہے۔