سنن ترمذي
كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
باب وَمِنْ سُورَةِ اللَّيْلِ باب: سورۃ اللیل میں «واللیل إذا یغشی والذکر والأنثی» کی قرأت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ : قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ : " أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : فَأَشَارُوا إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : كَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1 ؟ قَالَ : قُلْتُ : سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى ، فَقَال أَبُو الدَّرْدَاءِ : وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ، وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونَنِي أَنْ أَقْرَأَهَا وَمَا خَلَقَ سورة الليل آية 3 فَلَا أُتَابِعُهُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهَكَذَا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0 .´علقمہ کہتے ہیں کہ` ہم شام پہنچے تو ابوالدرواء رضی الله عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا : کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود کی قرأت کی طرح پر قرأت کرتا ہو ؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا ، میں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : تم نے یہ آیت «والليل إذا يغشى» عبداللہ بن مسعود کو کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے انہیں «والليل إذا يغشى والذكر والأنثى» ۱؎ پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔ ابو الدرداء نے کہا : اور میں ، قسم اللہ کی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے ، اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اسے «وما خلق» پڑھوں ( یعنی «وما خلق والذكر والأنثى» ) تو میں ان کی بات نہ مانوں گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- عبداللہ بن مسعود کی قرأت بھی اسی طرح ہے : «والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى والذكر والأنثى»
تشریح، فوائد و مسائل
علقمہ کہتے ہیں کہ ہم شام پہنچے تو ابوالدرواء رضی الله عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا: کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود کی قرأت کی طرح پر قرأت کرتا ہو؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے یہ آیت «والليل إذا يغشى» عبداللہ بن مسعود کو کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں نے انہیں «والليل إذا يغشى والذكر والأنثى» ۱؎ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ ابو الدرداء نے کہا: اور میں، قسم اللہ کی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے، اور یہ لوگ چاہتے ہی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2939]
وضاحت:
1؎:
مشہورقراء ت ہے ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى، وَمَا خَلَقَ الذَّكَرِ وَالأُنْثَى﴾ حدیث میں مذکور قراء ت اس میں مذکوراشخاص ہی کی ہے، ان کے علاوہ اور کسی بھی قاری سے یہ منقول نہیں ہے، عثمان رضی اللہ عنہ کے قراء ت شاید اس کے منسوخ ہو جانے کی خبر پہنچی ہو جو ان مذکورہ اشخاص تک نہیں پہنچی ہو۔
پڑھتے تھے۔
)
شام والے مشہور ومتفق علیہ قراءت کرتے تھے مگر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو دوسرے طرز پر سنا تھا، وہ اسی پر مصر تھے پس خاطی کوئی بھی نہیں ہے۔
سات قراءتوں کا یہی مطلب ہے۔
1۔
اہل شام کے ہاں مشہور قراءت اس طرح ہے (وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ)
چونکہ حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی (وَالذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ)
سن چکے تھے، اس لیے یہ دونوں حضرات کسی دوسرے کی قراءت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
لیکن اس قراءت کو تواتر کا درجہ حاصل نہیں تھا، اس لیے جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصاحف لکھوائے تو آپ نے متواتر قراءت کے علاوہ دیگرقراءت کو حذف کر دیا۔
2۔
مصحف عثمانی میں جمہور کی قراءت پر اتفاق ہوگیا، لیکن شاید حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جمہور کی قراءت نہیں پہنچی ہوگی، اس لیے انھوں نے دوسری قراءت کو تسلیم نہیں کیا۔
واللہ اعلم۔
(1)
ان دونوں حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تکیہ لگانے یا گدا بچھانے کا ذکر ہے، لہٰذا اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
شارح مہلب نے کہا ہے کہ اس حدیث سے بڑے شخص کا احترام ثابت ہوتا ہے، نیز بڑا آدمی اپنے شاگرد کے گھر جا کر اسے دینی تعلیم دے سکتا ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر صاحب خانہ برا محسوس نہ کرے تو اس کے اکرام واحترام کو نظر انداز کر کے مہمان تواضع اختیار کرسکتا ہے۔
(فتح الباري: 82/11)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے تینوں بزرگوں، یعنی حضرت حذیفہ، حضرت عمار اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے مختلف ایسے فضائل ومناقب بیان کیے ہیں جو ان کے ساتھ مخصوص تھے۔
1۔
ابن ام عبد سے مراد حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں کیونکہ ان کی والدہ ام عبد کے نام سے مشہور تھیں۔
2۔
حضرت ابودرداء ؓ نے اس لیے مذکورہ سوالات کیے کہ علقمہ کو بتایا جائے تمہارے پاس ایسے ایسے علماء موجود ہیں،ان کی موجودگی میں کسی دوسرے سے علم سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
3۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ کے جوتے،چھاگل اور تکیہ اٹھا کر آپ کے ساتھ چلا کرتے تھے۔
آپ کی مسواک کا بھی اہتمام کرتے تھے،آپ کو وضو کراتے،جب آپ غسل فرماتے توپردہ کرتے۔
رسول اللہ ﷺ ان سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا: ’’جب تم آؤ تو پردہ اٹھاکراندرچلے آؤ۔
جب تک میں تمھیں منع نہ کرو گھر میں آنے کی اجازت ہے۔
‘‘ بہرحال حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو خادم خاص کی حیثیت حاصل تھی۔
(عمدة القاري: 472/11)
ایسا ہی ہوا کہ عمار خلیفہ برحق یعنی حضرت علی ؓکے ساتھ رہے اور باغیوں میں شریک نہ ہوئے، اس حدیث سے حضرت عمار ؓ کی بڑی فضیلت نکلی، وہ خاص آنحضرت ﷺ کے جاں نثار تھے۔
1۔
یہ حدیث مختصر ہے۔
تفصیل اس طرح ہے کہ حضرت علقمہ ؓ جب شام گئے تو انھوں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے کوئی اچھا ساتھی مل جائے۔
کہتے ہیں: میں نے دیکھا میرےپہلو میں ایک شیخ محترم بیٹھے ہیں۔
دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ حضرت ابو الدرداء ؓ ہیں۔
پھر انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
2۔
اس حدیث کو ظاہر پر محمول کیا جائے کہ حضرت عمار ؓشیطانی اغوا میں نہیں آئیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت عمار ؓ خلیفہ راشد حضرت علی ؓ کے ساتھ رہے اور حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ شریک نہ ہوئے۔
حضرت عمار ؓ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ شیطان ان پر مسلط نہیں ہوگا۔
ممکن ہے حضرت ابو الدرداء ؓ نے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہوجس میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمار ؓ کے لیے فرمایا: ’’انھیں باغی گروہ قتل کرے گا،افسوس کہ حضرت عمارؓ انھیں جنت کی دعوت دیں گے اور وہ انھیں جہنم کی طرف بلائیں گے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 447)