حدیث نمبر: 2938
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَقْرَأُ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ سورة الواقعة آية 89 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَارُونَ الْأَعْوَرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فروح وريحان وجنة نعيم» ۱؎ پڑھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: مشہور قراءت «فَرَوحٌ» (راء پر فتحہ کے ساتھ) ہے، یعقوب کی قراءت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، فتحہ کی صورت میں معنی ہے اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے، اور ضمہ کی صورت میں معنی ہو گا: اس کی روح پھولوں اور آرام والی جنت میں نکل کر جائیگی (الواقعہ: ۸۹)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الحروف (3991) ( تحفة الأشراف : 16204) (صحیح الإسناد)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3991 | معجم صغير للطبراني: 1080

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الواقعہ میں «فروح» کو راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فروح وريحان وجنة نعيم» ۱؎ پڑھتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2938]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مشہور قراء ت ﴿فَرَوحٌ﴾ (راء پر فتحہ کے ساتھ) ہے، یعقوب کی قراء ت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، فتحہ کی صورت میں معنی ہے (اسے تو راحت ہے اورغذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے) اورضمہ کی صورت میں معنی ہوگا: ﴿اس کی روح پھولوں اورآرام والی جنت میں نکل کر جائیگی) (الواقعہ: 89)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2938 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3991 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´باب:۔۔۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» تو عیش و آرام ہے (سورۃ الواقعہ: ۸۹) ۱؎ (راء کے پیش کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3991]
فوائد ومسائل:
جمہور کی معروف قراءت را کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کے معنی راحت وآرام کیے جاتے ہیں۔
اگر (روح) را کے ضمہ کےساتھ پڑھا جائے تو معنی ہوں گے: اس کی روح پھولوں اور نعمتوں میں ہوگی۔
یا اس کے لیے رحمت زندگی اور بقا ہو گی اور نعمتیں ہوں گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3991 سے ماخوذ ہے۔