سنن ترمذي
كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
باب وَمِنْ سُورَةِ الرُّومِ باب: سورۃ الروم کے شانِ نزول کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ظَهَرَتْ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ ، فَأَعْجَبَ ذَلِكَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَنَزَلَتْ الم { 1 } غُلِبَتِ الرُّومُ { 2 } إِلَى قَوْلِهِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ سورة الروم آية 1 ـ 4 ، قَالَ : يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِظُهُورِ الرُّومِ عَلَى فَارِسَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَيُقْرَأُ غَلَبَتْ وَغُلِبَتْ ، يَقُولُ : كَانَتْ غُلِبَتْ ثُمَّ غَلَبَتْ ، هَكَذَا قَرَأَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ غَلَبَتْ .´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے ۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎ ۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے ۔ کہتے ہیں : اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے ، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے ۔
۲؎: اس لیے کہ مسلمان اہل کتاب (قرآن والے) تھے اور رومی بھی اہل کتاب (انجیل والے) تھے، اور اہل فارس کافر و مشرک تھے جیسے اہل مکہ کافر و مشرک تھے۔ ان کی خوشی ادنی موافقت کی بنا پر تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی (اہل کتاب نصاریٰ) اہل فارس (آتش پرست مجوسیوں) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر («الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2935]
وضاحت:
1؎:
الم، رومی مغلوب ہوگئے ہیں نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے، چند سال میں ہی، اس سے پہلے اوراس کے بعد بھی اختیاراللہ تعالیٰ ہی کا ہے، اس روز مسلمان خوش ہوں گے۔
(الروم: 1-4)
2؎:
اس لیے کہ مسلمان اہل کتاب (قرآن والے) تھے اور رومی بھی اہل کتاب (انجیل والے) تھے، اور اہل فارس کافرومشرک تھے جیسے اہل مکہ کافرومشرک تھے۔
ان کی خوشی ادنی موافقت کی بنا پر تھی۔
نوٹ:
(عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3192]
وضاحت:
1؎:
کیونکہ رومی اہل کتاب تھے اور مسلمان بھی اہل کتاب اس لیے ان کی کامیابی میں انہیں اپنی کامیابی دکھائی دی۔
2؎:
رومی مغلوب ہو گئے ہیں، نزدیک کی زمین پر اوروہ مغلوب ہونے کے بعدعنقریب غالب آ جائیں گے، چند سال میں ہی، اس سے پہلے اوراس کے بعد بھی اختیاراللہ تعالیٰ کا ہی ہے، اس روز مسلمان شادمان ہوں گے (الروم: 1 - 4)
نوٹ:
(بعد کی حدیث سے یہ صحیح لغیرہ ہے)