سنن ترمذي
كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ باب: سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2930
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَرَأَ " هَلْ تَسْتَطِيعُ رَبَّكَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ، وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَالْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «هل تستطيع ربك» ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف رشدین کی حدیث سے جانتے ہیں ، ۲- اور اس کی سند قوی نہیں ہے ، رشدین بن سعد اور ( عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ) افریقی دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: مشہور قراءت یوں ہے «هل يستطيع ربك» یعنی یاء تحتانیہ اور راء کے اوپر ضمہ کے ساتھ پوری آیت اس طرح ہے «هل يستطيع ربك أن ينزل علينا مآئدة من السماء» (المائدہ: ۱۱۲) اور اس حدیث میں مذکور قراءت کسائی کی ہے، معنی ہو گا کیا تو اپنے رب سے مانگنے کی طاقت رکھتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔`
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «هل تستطيع ربك» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2930]
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «هل تستطيع ربك» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2930]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مشہورقراء ت یوں ہے ﴿هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ﴾ یعنی یاء تحتانیہ اور راء کے اوپرضمہ کے ساتھ، پوری آیت اس طرح ہے ﴿هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاء﴾ (المائدۃ: 112) اور اس حدیث میں مذکور قراء ت کسائی کی ہے، معنی ہو گا کیا تو اپنے رب سے مانگنے کی طاقت رکھتا ہے۔
نوٹ:
(سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
مشہورقراء ت یوں ہے ﴿هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ﴾ یعنی یاء تحتانیہ اور راء کے اوپرضمہ کے ساتھ، پوری آیت اس طرح ہے ﴿هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاء﴾ (المائدۃ: 112) اور اس حدیث میں مذکور قراء ت کسائی کی ہے، معنی ہو گا کیا تو اپنے رب سے مانگنے کی طاقت رکھتا ہے۔
نوٹ:
(سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2930 سے ماخوذ ہے۔