سنن ترمذي
كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ باب: سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2929
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ سورة المائدة آية 45 " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا : «أن النفس بالنفس والعين بالعين» ۱؎ «بالعين» ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ابوعلی بن یزید ، یونس بن یزید کے بھائی ہیں ، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : اس حدیث کو یونس بن یزید سے روایت کرنے میں ابن مبارک منفرد ( تنہا ) ہیں ، ۴- اور ابو عبید ( قاسم بن سلام ) نے اس حدیث کی اتباع میں اس طرح ( «العين » «بالعين» ) پڑھا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: «العینُ» کی نون پر پیش کے ساتھ، جبکہ یہ «النفس» پر عطف ہے جس کا تقاضا ہے کہ نون پر بھی زبر (فتحہ) پڑھا جائے۔
۲؎: ” جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے “ (المائدہ: ۴۵)۔
۲؎: ” جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے “ (المائدہ: ۴۵)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «أن النفس بالنفس والعين بالعين» ۱؎ «بالعين» ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2929]
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «أن النفس بالنفس والعين بالعين» ۱؎ «بالعين» ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2929]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی: العینُ کی نون پر پیش کے ساتھ، جبکہ یہ (النفس) پر عطف ہے جس کا تقاضا ہے کہ نون پر بھی زبر (فتحہ) پڑھا جائے۔
2؎:
جان کے بدلے جان اورآنکھ کے بدلے آنکھ ہے (المائدۃ: 45)
نوٹ:
(سند میں ابوعلی بن یزید مجہول راوی ہے)
وضاحت:
1؎:
یعنی: العینُ کی نون پر پیش کے ساتھ، جبکہ یہ (النفس) پر عطف ہے جس کا تقاضا ہے کہ نون پر بھی زبر (فتحہ) پڑھا جائے۔
2؎:
جان کے بدلے جان اورآنکھ کے بدلے آنکھ ہے (المائدۃ: 45)
نوٹ:
(سند میں ابوعلی بن یزید مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2929 سے ماخوذ ہے۔