سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب باب: ۔۔۔
حدیث نمبر: 2922
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْخَفَّافُ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، وَقَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي ، كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے ، اور تین بار سورۃ الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں ۔ اگر وہ ایسے دن میں مر جاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے ، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2922
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الإرواء (342) ، التعليق الرغيب (2 / 225) // ضعيف الجامع الصغير (5732) // , شیخ زبیر علی زئی: (2922) إسناده ضعيف, خالد بن طهمان اختلط ولم يثبت أنه حدث به قبل اختلاطه (تقدم:2482)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2709 | سنن ابي داود: 3899 | سنن ابن ماجه: 3518
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے، اور تین بار سورۃ الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے دن میں مر جاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2922]
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے، اور تین بار سورۃ الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے دن میں مر جاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2922]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں موجود نافع بن ابی نافع دراصل نفیع ابوداؤد الاعمی ہے، جو متروک ہے، بلکہ ابن معین نے تکذیب کی ہے، ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب)
نوٹ:
(سند میں موجود نافع بن ابی نافع دراصل نفیع ابوداؤد الاعمی ہے، جو متروک ہے، بلکہ ابن معین نے تکذیب کی ہے، ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2922 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3518 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سانپ اور بچھو کے جھاڑ پھونک کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا “، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3518]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا “، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3518]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کے کلمات سے مراد اس کا کلام، اس کے فیصلے اور قدرت ہے۔
(2)
انسانوں، جنوں، حیوانوں اور حشرات کے شر سے محفوظ رہنے کےلئے یہ ایک بہترین دعا ہے۔
(3)
یہ دعا صبح وشام پڑھنی چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کے کلمات سے مراد اس کا کلام، اس کے فیصلے اور قدرت ہے۔
(2)
انسانوں، جنوں، حیوانوں اور حشرات کے شر سے محفوظ رہنے کےلئے یہ ایک بہترین دعا ہے۔
(3)
یہ دعا صبح وشام پڑھنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3518 سے ماخوذ ہے۔