سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب مِنْهُ باب: ۔۔۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ، وَقَدْ خُولِفَ وَكِيعٌ فِي رِوَايَتِهِ ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ : يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ لَيْسَ بِحَدِيثِهِ بَأْسٌ إِلَّا رِوَايَةَ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ فَزَادَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، وَلَا يُتَابَعُ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَلَى رِوَايَتِهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَأَبُو الْمُبَارَكِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ .´صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال جانا وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، وکیع کی روایت میں وکیع سے اختلاف کیا گیا ہے ، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوفروہ کہتے ہیں : یزید بن سنان رہاوی کی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ سوائے اس روایت کے جسے ان کے بیٹے محمد ان سے روایت کرتے ہیں ، اس لیے کہ وہ ان سے مناکیر روایت کرتے ہیں ، ۳- محمد بن یزید بن سنان نے اپنے باپ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے اور اس کی سند میں اتنا اضافہ کیا ہے : «عن مجاهد عن سعيد بن المسيب عن صهيب» محمد بن یزید کی روایت کی کسی نے متابعت نہیں کی ، وہ ضعیف ہیں ، اور ابوالمبارک ایک مجہول شخص ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال جانا وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا۔“ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2918]
نوٹ:
(سند میں ابوالمبارک مجہول راوی ہے)