سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ أَنَّهُ يُخْفِي التَّشَهُّدَ باب: تشہد آہستہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 291
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُخْفِيَ التَّشَهُّدَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں :` سنت سے یہ ہے ۱؎ کہ تشہد آہستہ پڑھا جائے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔
وضاحت:
۱؎: جب صحابی «من السنة كذا أو السنة كذا» کہے تو یہ جمہور کے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تشہد آہستہ پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: سنت سے یہ ہے ۱؎ کہ تشہد آہستہ پڑھا جائے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 291]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: سنت سے یہ ہے ۱؎ کہ تشہد آہستہ پڑھا جائے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 291]
اردو حاشہ:
1؎:
جب صحابی ((مِنَ السُّنَّةِ كَذَا أَوِ السُّنَةُ كَذَا)) کہے تو یہ جمہور کے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔
1؎:
جب صحابی ((مِنَ السُّنَّةِ كَذَا أَوِ السُّنَةُ كَذَا)) کہے تو یہ جمہور کے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 291 سے ماخوذ ہے۔