حدیث نمبر: 2906
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، قَال : سَمِعْتُ حَمْزَةَ الزَّيَّاتَ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ : مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا تَرَى أَنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوا فِي الْأَحَادِيثِ ، قَالَ : وَقَدْ فَعَلُوهَا ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَلَا إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ ، فَقُلْتُ : مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ ، وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ ، وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ ، وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ ، وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ ، وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ ، هُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ ، وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ ، هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا : إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا { 1 } يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ سورة الجن آية 1 ـ 2 ، مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَإِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ وَفِي الْحَارِثِ مَقَالٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حارث اعور کہتے ہیں کہ` مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں ، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا ۔ میں نے کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا : کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا “ ، میں نے کہا : اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” کتاب اللہ ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں ، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے ، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے ، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے ۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا ۔ وہ ( قرآن ) اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے ، وہ سیدھا راستہ ہے ، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں ، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں ، اور علماء کو ( خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں ) آسودگی نہیں ہوتی ، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا ( اور بے مزہ ) نہیں ہوتا ۔ اور اس کی انوکھی ( و قیمتی ) باتیں ختم نہیں ہوتیں ، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے : ہم نے ایک عجیب ( انوکھا ) قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے ، تو ہم اس پر ایمان لے آئے ، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا ۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی ۔ اعور ! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- اس کی سند مجہول ہے ، ۳- حارث کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2906
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (2138 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (2906) إسناده ضعيف, الحارث الأعور :ضعيف (تقدم:282)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10057) (ضعیف) (سند میں حارث الأعور ضعیف راوی ہے، اور ابن أخی الحارث مجہول)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قرآن کریم کی فضیلت کا بیان۔`
حارث اعور کہتے ہیں کہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا ، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2906]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حارث الأعور ضعیف راوی ہے، اور ابن أخی الحارث مجہول)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2906 سے ماخوذ ہے۔