سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الإِخْلاَصِ باب: سورۃ الاخلاص «قل هو الله أحد» کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ مَوْلًى لِآلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : أَقْبَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ ، قُلْتُ : وَمَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ : الْجَنَّةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَابْنُ حُنَيْنٍ هُوَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا ، آپ نے وہاں ایک آدمی کو «قل هو الله أحد الله الصمد» پڑھتے ہوئے سنا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ۔ میں نے کہا : کیا چیز واجب ہو گئی ؟ آپ نے فرمایا : ” جنت ( واجب ہو گئی ) “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس حدیث کو صرف مالک بن انس کی روایت سے جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 995 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´«قل ھو اللہ أحد» پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔`
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 995]
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 995]
995۔ اردو حاشیہ: کیونکہ یہ سورت خالص توحید ہے اور توحید کا بدلہ جنت ہے۔ ابتدا میں مل جائے یا کچھ سزا بھگت کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «مَن كان آخِرُ كلامِهِ لا إلهَ إلّا اللهُ دخَل الجنَّةَ» ”جس کی آخری بات لا الہ الا اللہ ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3116]
ہر موحد لازماً جنت میں جائے گا، جب بھی جائے، پھر ہمیشہ وہیں رہے گا۔
ہر موحد لازماً جنت میں جائے گا، جب بھی جائے، پھر ہمیشہ وہیں رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 995 سے ماخوذ ہے۔