سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب مَا جَاءَ فِي إِذَا زُلْزِلَتْ باب: سورۃ اذا زلزلت کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " هَلْ تَزَوَّجْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : ثُلُثُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا : ” اے فلاں ! کیا تم نے شادی کر لی ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، قسم اللہ کی ! اللہ کے رسول ! نہیں کی ہے ، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ «قل هو الله أحد» نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، میرے پاس ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” سورۃ «قل هو الله أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا جاء نصر الله والفتح» نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، ( ہے ) آپ نے فرمایا : ” یہ ایک چوتھائی قرآن ہے “ ، آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ «قل يا أيها الكافرون» نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ۔ ( ہے ) آپ نے فرمایا : ” ( یہ ) چوتھائی قرآن ہے “ ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ( ہے ) آپ نے فرمایا : ” یہ ایک چوتھائی قرآن ہے “ ، آپ نے فرمایا : ” تم شادی کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ” اے فلاں! کیا تم نے شادی کر لی؟ “ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! اللہ کے رسول! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں۔ آپ نے فرمایا: ” کیا تمہارے پاس سورۃ «قل هو الله أحد» نہیں ہے؟ “ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا: ” سورۃ «قل هو الله أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ آپ نے فرمایا: ” کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا جاء نصر الله والفتح» نہیں ہے؟ “ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، (ہے) آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2895]
نوٹ:
(سند میں سلم بن وردان ضعیف راوی ہیں، لیکن ﴿قل ھو اللہ﴾ سے متعلق فقرہ اوپر (2893) سے تقویت پا کر حسن ہے)