سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْمُلْكِ باب: سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ مِسْعَرٍ تِرْمِذِيٌّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ " الم تَنْزِيلُ " وَ" تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، مِثْلَ هَذَا ، وَرَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا ، وَرَوَى زُهَيْرٌ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعْتَ مِنْ جَابِرٍ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ صَفْوَانُ ، أَوِ ابْنُ صَفْوَانَ ، وَكَأَنَّ زُهَيْرًا أَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ .´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کو کئی ایک رواۃ نے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے ، ۲- مغیرہ بن مسلم نے ابوزبیر سے ، اور ابوزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ، ۳- زہیر روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں : میں نے ابوزبیر سے کہا : آپ نے جابر سے سنا ہے ، تو انہوں نے یہی حدیث بیان کی ؟ ابوالزبیر نے کہا : مجھے صفوان یا ابن صفوان نے اس کی خبر دی ہے ۔ تو ان زہیر نے ابوالزبیر سے جابر کے واسطہ سے اس حدیث کی روایت کا انکار کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2892]
نوٹ:
(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’لیث بن ابی سلیم‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: 585)