سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْمُلْكِ باب: سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ ، وَهُوَ لَا يَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ ، فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ضَرَبْتُ خِبَائِي عَلَى قَبْرٍ ، وَأَنَا لَا أَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے ، ( انہوں نے آواز سنی ) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا ، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا ، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے ۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ آپ نے فرمایا : «هي المانعة» ” یہ سورۃ مانعہ ہے ، یہ نجات دینے والی ہے ، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي ال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2890]
نوٹ:
(سند میں یحییٰ بن عمرو ضعیف راوی ہیں، لیکن (ھي المانعة) کا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے، دیکھیے: الصحیحة رقم: 1140)
’’ ایک صحابی نے انجانے میں کسی قبر پر اپنا خیمہ لگا لیا۔ اس میں ایک انسان سورۂ ملک کی قرأت کر رہا تھا۔ اس نے مکمل سورت پڑھی۔ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے انجانے میں ایک قبر پر اپنا خیمہ لگا لیا تو اس میں ایک انسان سورۂ ملک کی قرأت کر رہا تھا، اس نے پوری سورت پڑھی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۂ ملک اپنے پڑھنے والے سے عذاب کو روکتی ہے اور اسے عذاب ِ قبر سے نجات دیتی ہے۔“
تبصرہ:
اس کی سند سخت ترین ’’ ضعیف“ ہے، کیونکہ: ➊ اس کا راوی یحییٰ بن عمرو بن مالک نکری ’’ ضعیف“ ہے۔ اس کے بارے میں: ◈ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «كان منكر الرواية عن أبيه .»
’’ یہ اپنے والد سے منکر روایات بیان کرتا تھا۔“ [المجروحين: 114/3]
مذکورہ بالا روایت بھی یحییٰ بن عمرو اپنے والد ہی سے بیان کر رہا ہے، لہٰذا یہ جرح مفسر ہوئی۔ اس راوی کو امام یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل، امام ابوزرعہ رازی، امام نسائی، امام دارقطنی [كتاب الضعفاء والمتروكين: 850] وغیرہم نے بھی ’’ ضعیف“ قرار دیا ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ کا اس کے بارے میں «صويلح يعتبر به» کہنا ثابت نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’ ضعیف“ ہی قرار دیا ہے۔ [تقريب التهذيب: 7614]
➋ یحییٰ بن عمرو کے والد عمرو بن مالک نکری (حسن الحدیث) یہ روایت ابوالجوزاء سے بیان کرتے ہیں اور ان کی ابوالجوزاء سے روایت ’’ غیر محفوظ“ ہوتی ہے۔ [تهذيب التهذيب لابن حجر: 336/1]
یہ تھی کشمیری صاحب کی دلیل جس کا حشر آپ نے دیکھ لیا۔ کسی غیر ثابت روایت کو اپنا عقیدہ بنا لینا کیسے جائز ہے؟ کھوٹے سکے کسی کام کے نہیں ہوتے۔ دین و عقیدہ کی بنیاد صرف صحیح احادیث بنتی ہیں۔
الحاصل: واقعہ حرہ کے وقت قبر نبوی سے اذان سنائی دینا ثابت نہیں اس بارے میں کوئی روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ لہٰذا اس قصے کو بیان کرنا اور اس سے مسائل کا استنباط کرنا دین اسلام کے ساتھ خیر خواہی پر مبنی نہیں۔
نوٹ: اس موضوع پر مفصل تحریر سنن دارمی حدیث نمبر 94 پر دیکھی جا سکتی ہے۔