سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ باب: سورۃ الکہف کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2886
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی تین آیات پڑھیں وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا گیا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی موجودگی میں دجال کا ظہور ہو بھی جائے تو بھی وہ اللہ کی رحمت اور ان آیات کی برکت سے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الکہف کی فضیلت کا بیان۔`
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی تین آیات پڑھیں وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا گیا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2886]
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی تین آیات پڑھیں وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا گیا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2886]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اس کی موجود گی میں دجال کا ظہور ہو بھی جائے تو بھی وہ اللہ کی رحمت اور ان آیات کی برکت سے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
نوٹ:
(مؤلف کے الفاظ (ثلاث آیات) کے ساتھ یہ روایت شاذ ہے، مؤلف کے سوا سب کے یہاں (عشر آیات) ہی کے الفاظ ہیں)
وضاحت:
1؎:
یعنی اس کی موجود گی میں دجال کا ظہور ہو بھی جائے تو بھی وہ اللہ کی رحمت اور ان آیات کی برکت سے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
نوٹ:
(مؤلف کے الفاظ (ثلاث آیات) کے ساتھ یہ روایت شاذ ہے، مؤلف کے سوا سب کے یہاں (عشر آیات) ہی کے الفاظ ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2886 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 809 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو انسان سورہ کہف کی پہلی دس آیات یاد کرے گا وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1883]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات میں جو تمہیدی مضمون ہے اور اس کے ساتھ اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس میں ہر دجالی فتنہ کا توڑ ہے کیونکہ اس میں زمین اور اس کے سازو سامان کی رنگینی اور دلکشی کا نقشہ کھینچ کر اس کے عارضی اور فنا پذیر ہونے کا دلنشین انداز میں تذکرہ کیا گیا ہے اور جس دل کو ان آیات میں بیان کردہ حقائق اور مضامین کا یقین نصیب ہو جائے گا وہ دل کسی دجالی فتنہ سے متاثر نہ ہو گا اس طرح جو مسلمان ان آیات کی اس خاصیت اور برکت پر یقین رکھتے ہوئے ان کو اپنے دل و دماغ میں جگہ دے گا۔
اور ان کی تلاوت کرتا رہے گا، وہ (اصحاب کہف)
کی طرح محفوظ رہے گا۔
اور ان کی تلاوت کرتا رہے گا، وہ (اصحاب کہف)
کی طرح محفوظ رہے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 809 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4323 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دجال کے نکلنے کا بیان۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر لیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے: ” جس نے سورۃ الکہف کی آخری آیتیں یاد کیں “، شعبہ نے بھی قتادہ سے ” کہف کے آخر “ سے کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4323]
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر لیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے: ” جس نے سورۃ الکہف کی آخری آیتیں یاد کیں “، شعبہ نے بھی قتادہ سے ” کہف کے آخر “ سے کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4323]
فوائد ومسائل:
حفظ کرنے سے مراد ان کو اپنا ورد بنانا ہے بالخصوص ہر جمعے کے دن تلاوت کرنا، جیسے دیگر روایات میں آتا ہے۔
اور عدد میں بھی یہ روایت زیادہ ہے۔
نیز سابقہ حدیثِ نواس بھی اسکی موید ہے۔
حفظ کرنے سے مراد ان کو اپنا ورد بنانا ہے بالخصوص ہر جمعے کے دن تلاوت کرنا، جیسے دیگر روایات میں آتا ہے۔
اور عدد میں بھی یہ روایت زیادہ ہے۔
نیز سابقہ حدیثِ نواس بھی اسکی موید ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4323 سے ماخوذ ہے۔