سنن ترمذي
كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
باب مِنْهُ باب: ۔۔۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، " أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ سَهْوَةٌ فِيهَا تَمْرٌ فَكَانَتْ تَجِيءُ الْغُولُ فَتَأْخُذُ مِنْهُ ، قَالَ : فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَاذْهَبْ فَإِذَا رَأَيْتَهَا ، فَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَخَذَهَا ، فَحَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ، قَالَ : حَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ ، فَقَالَ : كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ ، قَالَ : فَأَخَذَهَا مَرَّةً أُخْرَى فَحَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ قَالَ : حَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ ، فَقَالَ : كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ ، فَأَخَذَهَا فَقَالَ : مَا أَنَا بِتَارِكِكِ حَتَّى أَذْهَبَ بِكِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي ذَاكِرَةٌ لَكَ شَيْئًا ، آيَةَ الْكُرْسِيِّ اقْرَأْهَا فِي بَيْتِكَ فَلَا يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ وَلَا غَيْرُهُ ، قَالَ : فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ قَالَ : فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ : قَالَ : صَدَقَتْ ، وَهِيَ كَذُوبٌ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ .´ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ان کا اپنا ایک احاطہٰ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں ۔ جن آتا تھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی ۔ آپ نے فرمایا : ” جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیا ہوا ہے تو کہو : بسم اللہ ( اللہ کے نام سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان “ ، ابوذر رضی الله عنہ نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو ، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا ، چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا ، ” تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ ! “ انہوں نے کہا : اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا ۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے جھوٹ کہا : وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے “ ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے اسے دوبارہ پکڑا ، اس نے پھر قسمیں کھائیں کہ اسے چھوڑ دو ، وہ دوبارہ نہ آئے گا تو انہوں نے اسے ( دوبارہ ) چھوڑ دیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا : ” تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ “ انہوں نے کہا : اس نے قسم کھائی کہ وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا ۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے جھوٹ کہا ، وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے “ ۔ ( پھر جب وہ آیا ) تو انہوں نے اسے پکڑ لیا ، اور کہا : اب تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا ۔ اس نے کہا : مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں ایک چیز یعنی آیت الکرسی بتا رہا ہوں ۔ تم اسے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرو ۔ تمہارے قریب شیطان نہ آئے گا اور نہ ہی کوئی اور آئے گا “ ، پھر ابوذر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا : ” تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ “ تو انہوں نے آپ کو وہ سب کچھ بتایا جو اس نے کہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے بات تو صحیح کہی ہے ، لیکن وہ ہے پکا جھوٹا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابی بن کعب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔