حدیث نمبر: 2869
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَمَّارٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، قَالَ : وَرُوِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، أَنَّهُ كَانَ يُثَبِّتُ حَمَّادَ بْنَ يَحْيَى الْأَبَحَّ ، وَكَانَ يَقُولُ هُوَ مِنْ شُيُوخِنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کی مثال بارش کی ہے ، نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا اول بہتر ہے یا اس کا آخر “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں عمار ، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت ہے کہ وہ حماد بن یحییٰ الابح کی تائید و تصدیق کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارے اساتذہ میں سے ہیں ۔
فائدہ ۱؎ : معلوم ہوا کہ امت کا ہر فرد بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے ، نہیں معلوم اس میں سے کس کو کب اور کس وقت دوسرے سے خیر و برکت پہنچ جائے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2869
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، المشكاة (6277) ، الصحيحة (2286)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 391) ، و مسند احمد (3/130، 143، 319) (حسن صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی ہے، نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا اول بہتر ہے یا اس کا آخر ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال/حدیث: 2869]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ امت کا ہرفرد بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، نہیں معلوم اس میں سے کس کو کب اور کس وقت دوسرے سے خیر و برکت پہنچ جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2869 سے ماخوذ ہے۔