سنن ترمذي
كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مثل اور کہاوت کا تذکرہ
باب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَنْبِيَاءِ قَبْلَهُ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور آپ سے پہلے کے انبیاء کی مثال۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي ، كَرَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا وَيَقُولُونَ : لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال ، اس شخص کی طرح ہے جس نے گھر بنایا ، گھر کو مکمل کیا اور اسے خوبصورت بنایا ، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے ۱؎ ۔ لوگ اس گھر میں آنے لگے اور اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے ، اور کہنے لگے : کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ ( بھی ) خالی نہ ہوتی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابی بن کعب اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال، اس شخص کی طرح ہے جس نے گھر بنایا، گھر کو مکمل کیا اور اسے خوبصورت بنایا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے ۱؎۔ لوگ اس گھر میں آنے لگے اور اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے، اور کہنے لگے: کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ (بھی) خالی نہ ہوتی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال/حدیث: 2862]
وضاحت:
1؎:
یعنی گھر کو خوبصورت اور مکمل بنانے کے باوجود ایک اینٹ کی جگہ باقی رکھ چھوڑی، لوگ اسے دیکھ کر کہنے لگے: کاش یہ خالی جگہ پر ہو جاتی تو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے، اس حدیث کی ایک روایت میں آگے الفاظ ہیں: تو میں وہی (آخری) اینٹ ہوں جیسے خالی جگہ میں لگا کرنبوت کے محل کو مکمل کیا گیا ہے۔
خوبصورت گھرسے مراد نبوت ورسالت والا دین حنیف ہے۔
اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
امام بخاری ؒنے مذکورہ عنوان سے ایک آیت کریمہ کی طرف اشارہ کیا ہے: ’’محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)
تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
‘‘ (الأحزاب: 40/33 و فتح الباري: 683/6)
حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگراینٹ کی جگہ خالی نہ ہوتی تو مکان مکمل ہوجاتا۔
اگلی روایت میں ہے: ’’میں وہ اینٹ ہوں کیونکہ میرے ذریعے سے نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔
‘‘ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ قادیانیوں کا دعویٰ کہ مرزاغلام احمد بھی نبی ہے محض فریب اور دھوکا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت جاری رہنے کا امکان نہیں رہا اور نہ آپ کے بعد کسی اور نبی کو تجویز کرناہی ممکن ہے۔