سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ باب: شعر پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا ، يُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا يُفَاخِرُ أَوْ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی الله عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فخریہ اشعار پڑھتے تھے ۔ یا وہ اپنی شاعری کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع فرماتے تھے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” اللہ حسان کی مدد روح القدس ( جبرائیل ) کے ذریعہ فرماتا ہے جب تک وہ ( اپنے اشعار کے ذریعہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے فخر کرتے یا آپ کا دفاع کرتے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اور یہ حدیث ابن ابی الزناد کی روایت سے ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرتے تھے، تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یقیناً روح القدس (جبرائیل) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5015]
1۔
مسجد میں بصورت اشعار رسول مقبول ﷺ پیش کرنا ایک مباح عمل ہے۔
2۔
یہ حضرت حسان کا عظیم شرف تھا کہ ایک اعلیٰ مقصد کے لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنا منبر پیش فرمایا۔
اور تایئد وجبرئیل کی خوشخبری سنائی۔
3۔
اس حدیث کا پس منظر پیش نظر رکھنا چاہیے۔
کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واقعہ افک میں ملوث ہوگئے تھے۔
اور انہیں حد بھی لگائی گئی تھی۔
بعد ازاں جب کسی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے ان کی مذمت کی تو انہوں نے اپنے ذاتی معاملے سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی اسلام اور رسول اللہﷺ کے لئے خدمات کا برملا اظہار فرمایا۔
جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔