سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ فِي تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ باب: خراب نام کی تبدیلی کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ ، وَقَالَ : أَنْتِ جَمِيلَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عُمَرَ مُرْسَلًا ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَالْحَكَمِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَمُسْلِمٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ ، وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَخَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا ( آج سے ) تو «جمیلہ» یعنی : ” تیرا نام جمیلہ ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس حدیث کو یحییٰ بن سعید قطان نے مرفوع بیان کیا ہے ۔ یحییٰ نے عبیداللہ سے عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے ، اور بعض راویوں نے یہ حدیث عبیداللہ سے ، عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے عمر سے مرسلاً روایت کی ہے ، ۳- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف ، عبداللہ بن سلام ، عبداللہ بن مطیع ، عائشہ ، حکم بن سعید ، مسلم ، اسامہ بن اخدری ، ہانی اور عبدالرحمٰن بن ابی سبرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا (آج سے) تو «جمیلہ» یعنی: ” تیرا نام جمیلہ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2838]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ ایسے نام جو برے ہوں انہیں بدل کر ان کی جگہ اچھا نام رکھ دیا جائے۔
جن کا معنی ناپسندیدہ ہے، جیسے عاصیہ، یعنی نافرمان، حالانکہ ایک مسلمان کے لیے نافرمانی زیبا نہیں ہے، چہ جائیکہ کہ اس کا نام نافرمان رکھ دیا جائے۔
(2)
جن ناموں سے بدشگونی کا اندیشہ ہے، جبکہ بدشگونی جائز نہیں ہے، جیسے افلح، نجیح اور یسار وغیرہ۔
(3)
جن میں اپنا تزکیہ اور صفائی پیش کی گئی ہے، جیسے برہ، وفادار، اطاعت گزار، اگرچہ یہ دوسری قسم میں بھی داخل ہے اور اس سے بدشگونی کا اندیشہ ہے یعنی نفی کی صورت میں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4952]
عرب لوگ عاس اور عاصیہ نام رکھتے تھے۔
ان سے مراد ہوتی تھے ظلم و ذیادتی اور برائی سے انکار کرنے والا کرنے والی۔
مگر اس میں عصیان نافرمانی کا مفہوم بھی ہے۔
اس لیے اس نام کو بدل دیا گیا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام ” عاصیہ “ تھا (یعنی گنہگار، نافرمان) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3733]
فوائد و مسائل:
(عاصية)
کا مطلب ’’نافرمان‘‘ ہے۔
مسلمان فرماں بردار ہوتا ہے، اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔
فرعون کی مومن بیوی کا نام حضرت ’’آسیہ‘‘ تھا۔
یہ نام رکھنا جائز ہے۔