سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَسْمَاءِ باب: ناپسندیدہ ناموں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَافِعٌ ، وَبَرَكَةُ ، وَيَسَارٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو أَحْمَدَ ثِقَةٌ حَافِظٌ ، وَالْمَشْهُورُ عِنْدَ النَّاسِ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ .´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ ) رافع ، برکت اور یسار نام رکھنے سے منع کر دوں گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اسی طرح اسے ابواحمد نے سفیان سے ابوسفیان نے ابوزبیر سے ابوزبیر نے جابر سے اور انہوں نے عمر سے روایت کی ہے ۔ اور ابواحمد کے علاوہ نے سفیان سے سفیان نے ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے جابر سے جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ۳- ابواحمد ثقہ ہیں حافظ ہیں ، ۴- لوگوں میں یہ حدیث «عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مشہور ہے اور اس حدیث میں «عن عمر» ( عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے ) کی سند سے کا ذکر نہیں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، (اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں (سفیان) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، (تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں ” برکت “ کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4960]
مذکورہ بالا ناموں سے بالخصوس پرہیز کرنا چاہیے۔
اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ بعد میں اس سے خاموش ہو رہے۔
(صحیح مسلم، الأدب، باب کراھة التسمية بالأسماء و بنافع نحوه، حديث: 2138)