حدیث نمبر: 2835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَافِعٌ ، وَبَرَكَةُ ، وَيَسَارٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو أَحْمَدَ ثِقَةٌ حَافِظٌ ، وَالْمَشْهُورُ عِنْدَ النَّاسِ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ ) رافع ، برکت اور یسار نام رکھنے سے منع کر دوں گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اسی طرح اسے ابواحمد نے سفیان سے ابوسفیان نے ابوزبیر سے ابوزبیر نے جابر سے اور انہوں نے عمر سے روایت کی ہے ۔ اور ابواحمد کے علاوہ نے سفیان سے سفیان نے ابوزبیر سے اور ابوزبیر نے جابر سے جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ۳- ابواحمد ثقہ ہیں حافظ ہیں ، ۴- لوگوں میں یہ حدیث «عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مشہور ہے اور اس حدیث میں «عن عمر» ( عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے ) کی سند سے کا ذکر نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2835
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3829) , شیخ زبیر علی زئی: (2835) إسناده ضعيف / جه 3729, سفيان الثوري و أبو الزبير (تقدما:10 ،746) و أحاديث مسلم (2136 ،2138) و أبي دواد (4960) تغني عن هذا الحديث
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (وراجع صحیح مسلم/الآدب 2 (2138) ( تحفة الأشراف : 10423) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2138 | سنن ابي داود: 4960 | سنن ابن ماجه: 3729

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2138 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ناموں کو رکھنے سے منع کرنے کا ارادہ فرمایا، يعلى اور بركت اور افلح اور يسار اور نافع اور ان کے ہم معنی نام، پھر میں نے دیکھا، بعد میں اس سے خاموش ہو گئے اور کچھ نہ فرمایا، پھر آپ کی وفات ہو گئی اور آپ نے ان سے منع نہ فرمایا، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان ناموں سے روکنے کا ارادہ کیا، پھر اس کو نظر انداز کر دیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5603]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ناموں سے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے منع فرمایا، پھر قانونی اور فقہی رو سے ان سے روکنے کا ارادہ فرمایا، لیکن اس ارادہ کو عملی جامہ نہیں پہنایا اور قطعی طور پر ان سے روکنے کا حکم نہیں دیا، حتی کہ آپ اس جہان فانی سے چلے گئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2138 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4960 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´برے نام کو بدل دینے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، (اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں (سفیان) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، (تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں برکت کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4960]
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا ناموں سے بالخصوس پرہیز کرنا چاہیے۔
اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ بعد میں اس سے خاموش ہو رہے۔
(صحیح مسلم، الأدب، باب کراھة التسمية بالأسماء و بنافع نحوه، حديث: 2138)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4960 سے ماخوذ ہے۔