حدیث نمبر: 2831
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ شَيْخٌ لَهُ ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا بُنَيَّ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبُو عُثْمَانَ هَذَا شَيْخٌ ثِقَةٌ ، وَهُوَ الْجَعْدُ بْنُ عُثْمَانَ وَيُقَالُ ابْنُ دِينَارٍ وَهُوَ بَصْرِيٌّ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَشُعْبَةُ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «يا بني» ” اے میرے بیٹے “ کہہ کر پکارا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ۲- اس سند کے علاوہ کچھ دیگر سندوں سے بھی انس سے روایت ہے ، ۳- ابوعثمان یہ ثقہ شیخ ہیں اور ان کا نام جعد بن عثمان ہے ، اور انہیں ابن دینار بھی کہا جاتا ہے اور یہ بصرہ کے رہنے والے ہیں ۔ ان سے یونس بن عبید اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے ، ۴- اس باب میں مغیرہ اور عمر بن ابی سلمہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے ثابت ہوا کہ اپنے بیٹے کے علاوہ بھی کسی بچے کو اے میرے بیٹے! کہا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2831
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الآداب 6 (2151) ، سنن ابی داود/ الأدب 73 (4964) ( تحفة الأشراف : 514) ، و مسند احمد (3/285) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2151 | سنن ابي داود: 4964

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کسی کو پیار و شفقت سے میرے بیٹے کہنے کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «يا بني» اے میرے بیٹے کہہ کر پکارا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2831]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے ثابت ہوا کہ اپنے بیٹے کے علاوہ بھی کسی بچے کو ’’اے میرے بیٹے!‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2831 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2151 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ’’اے میرے بیٹے!‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5623]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کسی دوسرے انسان کے لیے کم عمر بیٹے کو پیار و محبت اور شفقت و لطف کے لئے، اے میرے بیٹے (يا بنی، يا بنی)
اے میرے بچے (يا ولدی)
کہنا جائز ہے، جیسا کہ اپنے ہم عمر کو اس بنا پر (يا اخی)
کہنا درست ہے اور اپنے سے بڑی عمر کے شخص کو (يا عمی) (اے چچا)
کہنا صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2151 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4964 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دوسرے کے بیٹے کو اے میرے بیٹے کہنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے میرے بیٹے!۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4964]
فوائد ومسائل:
کسی اور کے بچے کو پیار سے بیٹے یا میرے بیٹے کہ کر پکارلینے میں کوئی حرج نہیں۔
سورۃ احزاب میں جو حکم ہے کہ انہیں ان کے باپوں سے پُکارو۔
یہ لے پالک بچوں کے متعلق ہے کہ ان کے اصل نسب کی شہرت ختم نہ کرو۔
ورنہ پیار سے اور مجازََا اس طرح کہنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4964 سے ماخوذ ہے۔