سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ باب: مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيِّ ، وَشَيْبَانُ هُوَ صَاحِبُ كِتَابٍ وَهُوَ صَحِيحُ الْحَدِيثِ وَيُكْنَى أَبَا مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ : إِنِّي لَأُحَدِّثُ الْحَدِيثَ فَمَا أَدْعُ مِنْهُ حَرْفًا .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- متعدد لوگوں نے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی سے روایت کی ہے ، اور شیبان ، صاحب کتاب اور صحیح الحدیث ہیں ، اور ان کی کنیت ابومعاویہ ہے ، ۳- ہم سے عبدالجبار بن علاء عطار نے بیان کیا ، انہوں نے روایت کی سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمیر نے کہا : جب میں حدیث بیان کرتا ہوں تو اس حدیث کا ایک ایک لفظ ( یعنی پوری حدیث ) بیان کر دیتا ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2822]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے، وہ مشورہ لینے والے کی نگاہ میں امانت دار سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس امانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ ایمانداری سے مشورہ دے اور مشورہ دینے کے بعد مشورہ لینے والے کے راز کو دوسروں پر ظاہر نہ کرے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5128]
جیسے امانت میں خیانت کرنا حرام ہے، ایسے ہی مسلمان بھائی اگر مشورہ طلب کرے تو واجب ہے۔
کہ انسان اپنی دانست کے مطابق مکمل طور سے خیر اور بھلائی کا مشورہ دے ممکنہ خظرے سے آگاہ کرنے میں بخیل نہ بنے نیز اس کے معاملے کو غیر ضروری طور پر آگے بھی نہ پھیلائے۔