حدیث نمبر: 2822
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيِّ ، وَشَيْبَانُ هُوَ صَاحِبُ كِتَابٍ وَهُوَ صَحِيحُ الْحَدِيثِ وَيُكْنَى أَبَا مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ : إِنِّي لَأُحَدِّثُ الْحَدِيثَ فَمَا أَدْعُ مِنْهُ حَرْفًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- متعدد لوگوں نے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی سے روایت کی ہے ، اور شیبان ، صاحب کتاب اور صحیح الحدیث ہیں ، اور ان کی کنیت ابومعاویہ ہے ، ۳- ہم سے عبدالجبار بن علاء عطار نے بیان کیا ، انہوں نے روایت کی سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمیر نے کہا : جب میں حدیث بیان کرتا ہوں تو اس حدیث کا ایک ایک لفظ ( یعنی پوری حدیث ) بیان کر دیتا ہوں ۔

وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے، وہ مشورہ لینے والے کی نگاہ میں امانت دار سمجھاتا ہے، اس لیے اس امانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ ایمانداری سے مشورہ دے اور مشورہ دینے کے بعد مشورہ لینے والے کے راز کو دوسروں پر ظاہر نہ کرے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2822
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح وقد تقدم فى الحديث (2370) // هذا رقم الدعاس، وهو عندنا برقم (1931 - 2488) //
تخریج حدیث «انظر حدٰیث رقم 2369 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 5128 | سنن ابن ماجه: 3745

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2822]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے، وہ مشورہ لینے والے کی نگاہ میں امانت دار سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس امانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ ایمانداری سے مشورہ دے اور مشورہ دینے کے بعد مشورہ لینے والے کے راز کو دوسروں پر ظاہر نہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2822 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5128 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مشورے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5128]
فوائد ومسائل:
جیسے امانت میں خیانت کرنا حرام ہے، ایسے ہی مسلمان بھائی اگر مشورہ طلب کرے تو واجب ہے۔
کہ انسان اپنی دانست کے مطابق مکمل طور سے خیر اور بھلائی کا مشورہ دے ممکنہ خظرے سے آگاہ کرنے میں بخیل نہ بنے نیز اس کے معاملے کو غیر ضروری طور پر آگے بھی نہ پھیلائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5128 سے ماخوذ ہے۔