حدیث نمبر: 2821
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ ، وَقَالَ : إِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپے کے ( سفید ) بال اکھیڑنے سے منع کیا ، اور فرمایا ہے : ” یہ تو مسلمان کا نور ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- عبدالرحمٰن بن حارث اور کئی دیگر لوگوں سے یہ حدیث عمر بن شعیب کے واسطہ سے مروی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ داڑھی اور سر میں جو بال سفید ہو چکے ہیں انہیں نہیں اکھاڑنا چاہیئے، اس لیے کہ یہ انسان کو غرور اور نفسانی شہوات میں مبتلا ہونے سے روکتے ہیں، کیونکہ ان سے انسان کے اندر تواضع اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2821
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4458) ، الصحيحة (1243)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأدب 25 (3721) ( تحفة الأشراف : 87883) (حسن صحیح) (الصحیحة 1243)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4202 | سنن ابن ماجه: 3721 | سنن نسائي: 5071

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بڑھاپے کے (سفید) بال اکھیڑنے کی ممانعت۔`
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپے کے (سفید) بال اکھیڑنے سے منع کیا، اور فرمایا ہے: یہ تو مسلمان کا نور ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2821]
اردو حاشہ:
1؎:
معلوم ہوا کہ داڑھی اور سر میں جو بال سفید ہوچکے ہیں انہیں نہیں اکھاڑنا چاہئے، اس لیے کہ یہ انسان کو غرور اور نفسانی شہوات میں مبتلا ہونے سے روکتے ہیں، کیوں کہ ان سے انسان کے اندر تواضع اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2821 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4202 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سفید بال اکھاڑنے کی ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو (سفیان کی روایت میں ہے) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا (اور یحییٰ کی روایت میں ہے) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4202]
فوائد ومسائل:
سفید بال داڑھی میں ہوں یا سر میں اُنہیں اُکھیڑنا جائز نہیں ہے اور نہ کالا رنگ جا ئز ہے جیسے کہ اگلے باب میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4202 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3721 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سفید بال اکھیڑنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھیڑنے سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ وہ مومن کا نور ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3721]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سر کے سفید بال اکھاڑنا منع ہے۔

(2)
سفید بالوں کو مہندی وغیرہ لگا کر رنگ تبدیل کرنا مستحسن ہے۔

(3)
مومن کے لیے بڑھاپا عزت کا باعث ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3721 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5071 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سفید بال اکھاڑنا منع ہے۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھاڑنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5071]
اردو حاشہ: (1) یہ حدیث مبارکہ ڈاڑھی اور سر کے سفید بال باقی رکھنے اور ان کو زائل نہ کرنے پر دلالت کرتی ہے، اس لیے کہ مومن کے سفید بالوں کی بابت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «هوَ نورُ المؤمنِ» وہ مومن کا نور ہے۔ (سنن ابن ماجه، أبواب الأدب، باب نتف الشیب، حدیث:3721) سنن ابوداؤد کی روایت میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان کے بال حالتِ اسلام میں سفید ہو جائیں قیامت کے دن یہ اس کے لیے نور ہوں گے۔ مزید برآں آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالی اس کے ایک ایک بال کے عوض اس کی نیکی لکھتا ہے اوراس کے عوض اس سے ایک گناہ دور کرتا ہے۔ (سنن أبي داؤد، الترجل، باب فی تنف الشیب، حدیث:4202)۔
(2) یہاں ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے سفید بال رنگنے کا حکم بھی دیا ہے۔ دونوں قسم کی ان احادیث میں تطبیق یہ ہوسکتی ہے کہ سفید بالوں کو رنگنے کا حکم صرف یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرنے کےلیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ اپنے سفید بالوں کو نہیں رنگتے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب بال حالت اسلام میں سفید ہوجائیں تو پھر رنگنے کے باوجود بھی مومن مذکورہ فضیلت کا مستحق قرار پاتا ہے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5071 سے ماخوذ ہے۔