سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُحِبُّ أَنْ يُرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 2819
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبَّ أَنْ يَرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں ابوالاحوص کے باپ ، عمران بن حصین اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جس کی جیسی اچھی حیثیت ہو اسی لحاظ سے وہ حدود شریعت میں رہتے ہوئے اچھا کھائے پیے اور اچھا پہنے خوشحالی کے باوجود پھٹیچر نہ بنا رہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے۔`
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2819]
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2819]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جس کی جیسی اچھی حیثیت ہو اسی لحاظ سے وہ حدود شریعت میں رہتے ہوئے اچھا کھائے پیے اور اچھا پہنے خوشحالی کے باوجود پھٹیچر نہ بنا رہے۔
نوٹ:
(یہ سند حسن درجے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت:
1؎:
یعنی جس کی جیسی اچھی حیثیت ہو اسی لحاظ سے وہ حدود شریعت میں رہتے ہوئے اچھا کھائے پیے اور اچھا پہنے خوشحالی کے باوجود پھٹیچر نہ بنا رہے۔
نوٹ:
(یہ سند حسن درجے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2819 سے ماخوذ ہے۔