حدیث نمبر: 2817
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَال : سَمِعْتُ عُمَرَ يَذْكُرُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَحُذَيْفَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ اللِّبَاسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، وَمَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَيُكْنَى أَبَا عَمْرٍو ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے عمر رضی الله عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے دنیا میں «حریر» ( ریشمی کپڑا ) پہنا تو وہ اسے آخرت ( یعنی جنت ) میں نہ پہنے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے اسماء بنت ابی بکر کے آزاد کردہ غلام ابوعمرو سے مروی ہے ۔ ان کا نام عبداللہ اور ان کی کنیت ابوعمرو ہے ، ان سے عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار نے روایت کی ہے ، ۳- اس باب میں علی ، حذیفہ ، انس رضی الله عنہم اور دیگر کئی لوگوں سے بھی احادیث آئی ہیں ، جن کا ذکر ہم کتاب اللباس میں کر چکے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح غاية المرام (78)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/اللباس 1 (2069) ( تحفة الأشراف : 10542) ، و مسند احمد (1/20، 26، 36، 39) (صحیح) (ھذا من مسند عمر رضی الله عنہ، وقد أخرجہ من مسند ابن عمر کل من: صحیح البخاری/الجمعة 7 (886، والعیدین 1 (938) ، والھبة 27 (2612) ، والجھاد 177 (3054) ، واللباس 30 (5841) ، والأدب 9 (5981) ، و 66 (6081) ، وصحیح مسلم/المصدر المذکور (2068) ، و سنن ابی داود/ الصلاة 219 (1076) ، واللباس 10 (4040) ، سنن النسائی/الجمعة 11 (1383) ، والزینة 83 (5161) ، وسنن ابن ماجہ/اللباس 16 (3591) ، وط/اللباس 8 (18) ، و مسند احمد (2/20، 39، 49) (بذکر قصة)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3601 | سنن ابن ماجه: 3643 | سنن نسائي: 5162 | سنن نسائي: 5311

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3601 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مردوں کے لیے پیلے کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مفدم» سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: «مفدم» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا «کسم» میں رنگنے سے خوب پیلا ہو جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3601]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
  معصفر کا مطلب ہے عصفر سے رنگا ہوا۔
وہ ایک زرد رنگ کی چیز ہے جس سے کپرے رنگے جاتےہیں۔ (محمد فواد عبدالباقی بحوالہ المنجد)
لیکن انہوں نے (المفدم)
 کی تشریح یوں کی ہے: انتہائی سرخ۔
گویا وہ اتنا زیادہ سرخ ہے کہ مزید سرخ نہیں ہو سکتا۔
ممکن ہے کسم کا پودا زرد ہونے کے باوجود اس سے رنگا ہوا کپڑا سرخ ہو جاتا ہو۔

(2)
گہرے کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسم کا رنگا ہوا کپڑا اگر ہلکے رنگ کا ہو تو مردوں کے لیے جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3601 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5311 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ریشمی کپڑوں کے پہننے کی ممانعت کا بیان۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا: آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے، چاندی کے برتن سے، ریشمی زین سے، قسی، استبرق، دیبا اور حریر نامی ریشم کے استعمال سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5311]
اردو حاشہ: (1) قسی کپڑوں اور ریشمی گدیلوں کی تفصیل کےبارے میں ملاحظہ فرمائیں، احادیث:5168، 5169۔
(2) موٹے، باریک اور عام ریشم عربی میں استبرق، دیباج اور حریر کے لفظ آئے ہیں۔ یہ تینوں ریشم کی اقسام ہیں۔ تفصیل احادیث 5301، 5302 میں گزر چکی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر قسم کے ریشم کے استعمال سے منع فرمایا گیا مگر یہ نہی مردوں کےلیے ہے البتہ چاندی کے برتنوں اور ریشمی گدیلوں سے نہی سے مرد وعورت سب کے لیے ہے کیونکہ یہ مشترکہ استعمال کی اشیاء ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5311 سے ماخوذ ہے۔