سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الْحَمَّامِ باب: غسل خانہ میں جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2802
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَيَازِرِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَائِمِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حمامات ( عمومی غسل خانوں ) میں جا کر نہانے سے منع فرمایا ۔ پھر مردوں کو تہہ بند پہن کر نہانے کی اجازت دے دی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- اس کی سند ویسی مضبوط نہیں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´غسل خانہ میں جانے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حمامات (عمومی غسل خانوں) میں جا کر نہانے سے منع فرمایا۔ پھر مردوں کو تہہ بند پہن کر نہانے کی اجازت دے دی۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2802]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حمامات (عمومی غسل خانوں) میں جا کر نہانے سے منع فرمایا۔ پھر مردوں کو تہہ بند پہن کر نہانے کی اجازت دے دی۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2802]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوعذرہ مجہول تابعی ہیں، صحابی نہیں ہیں: غایة المرام رقم: 190)
نوٹ:
(سند میں ابوعذرہ مجہول تابعی ہیں، صحابی نہیں ہیں: غایة المرام رقم: 190)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2802 سے ماخوذ ہے۔