حدیث نمبر: 2800
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَيْزَكَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ ، فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْغَائِطِ ، وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَبُو مُحَيَّاةَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ ننگے ہونے سے بچو ، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ ( فرشتے ) ہوتے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے ۔ وہ تو صرف اس وقت جدا ہوتے ہیں جب آدمی پاخانہ جاتا ہے یا اپنی بیوی کے پاس جا کر اس سے ہمبستر ہوتا ہے ۔ اس لیے تم ان ( فرشتوں ) سے شرم کھاؤ اور ان کی عزت کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2800
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الإرواء (64) ، المشكاة (3115 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2194) // , شیخ زبیر علی زئی: (2800) إسناده ضعيف, ليث بن أبى سليم: ضعيف (تقدم:218)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 8318) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، دیکھیے: الارواء رقم: 64)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ننگے ہونے سے بچو، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ (فرشتے) ہوتے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ تو صرف اس وقت جدا ہوتے ہیں جب آدمی پاخانہ جاتا ہے یا اپنی بیوی کے پاس جا کر اس سے ہمبستر ہوتا ہے۔ اس لیے تم ان (فرشتوں) سے شرم کھاؤ اور ان کی عزت کرو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2800]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، دیکھیے: الإرواء رقم: 64)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2800 سے ماخوذ ہے۔