سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ باب: ران کے ستر (شرمگاہ) میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2795
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَرْهَدٍ فِي الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَشَفَ فَخِذُهُ ، فَقَال : " إِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَا أَرَى إِسْنَادَهُ بِمُتَّصِلٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جرہد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جرہد کے پاس ( یعنی میرے پاس سے ) سے گزرے ( اس وقت ) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا : ” ران بھی ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4014 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ننگا ہونا منع ہے۔`
زرعہ بن عبدالرحمٰن بن جرہد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں جرہد اصحاب صفہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تجھے معلوم نہیں کہ ران ستر ہے (اس کو چھپانا چاہیئے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4014]
زرعہ بن عبدالرحمٰن بن جرہد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں جرہد اصحاب صفہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تجھے معلوم نہیں کہ ران ستر ہے (اس کو چھپانا چاہیئے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4014]
فوائد ومسائل:
مرد کی ران ستر میں شامل ہے، اس لیے چاہیے کہ کھیل وغیرہ میں لمبا جانگیا پہنا جائے۔
اسی طرح جسم پر فٹ لباس یا جس سے جسم جھلکتا ہو بھی جائز نہیں ہے۔
مرد کی ران ستر میں شامل ہے، اس لیے چاہیے کہ کھیل وغیرہ میں لمبا جانگیا پہنا جائے۔
اسی طرح جسم پر فٹ لباس یا جس سے جسم جھلکتا ہو بھی جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4014 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4014 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
مرد کا ستر ناف اور گھٹنے کا درمیانی حصہ
ناف اور گھٹنے کا درمیانی حصہ ہے جیسا کہ دلائل حسب ذیل ہیں: ➊ حدیث نبوی ہے کہ «مابين السرة والركبة عورة» ”ناف اور گھٹنے کے درمیان جو کچھ ہے ستر ہے۔“ [حسن: إرواء الغليل 271، 247]
➋ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الفخد عورة» ”ران ستر ہے۔“
[صحيح: صحيح أبو داود 3389، كتاب الحمام: النهى عن التعرى، أبو داود 4104، ترمذي 2798، أحمد 478/3، بخاري تعليقا 478/1، شيخ محمد صحبي حلاق نے اسے صحيح كها هے۔ التعليق على السيل الجرار 363/1]
➌ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ولا تبرز فخذك ولا تنظر إلى فخذ حبى ولا ميت»
”اپنی ران کو ظاہر مت کرو اور کسی کی ران مت دیکھو خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ہو۔“
[ضعيف: ضعيف أبو داود 867، ضعيف الجامع 6187، إرواء الغليل 269، أبو داود 4015، أيضا، ابن ماجة 1460، حاكم 180/4، بزار 694]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معمر رضی اللہ عنہ کو رانیں ننگی کیے ہوئے دیکھا تو فرمایا: «با معمر غط فخذيك فإن الفخذين عورة» ”اے معمر! اپنی رانوں کو ڈھانپ لو کیونکہ رانیں ستر میں شامل ہیں۔“
[ضعيف: المشكاة 3114، أحمد 290/5، بخاري تعليقا 478/1، حاكم 180/4، شيخ محمد صجي حلاق نے اسے حسن كہا ہے۔ التعليق على السيل الجرار 362/1]
ستر کے مسئلے میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔
(شافعیؒ، ابوحنیفہؒ) ران ستر میں شامل ہے۔
(مالکؒ، احمدؒ، اہل ظاہرؒ) صرف قبل اور دبر ہی ستر ہے۔ [نيل الأوطار 532/1]
(راجح) ران ستر میں شامل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ «الفخذ عورة» ”ران ستر ہے۔“
(ابن حجرؒ) حديث «لا تبرز فخذك» کے متعلق رقمطراز ہیں کہ ”یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔“ [تلخيص الحبير 504/1]
(نوریؒ) اکثر علماء کا یہی موقف ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔ [المجموع 175/3]
(شوکانیؒ) حق بات یہی ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔ [نيل الأوطار 532/1]
(البانیؒ) ران ستر ہے۔ [تمام المنة ص/ 160]
جن احادیث میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران ظاہر کی مثلا خیبر کے دن، [بخاري 371، أحمد 102/3] اور اسی طرح حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے اپنے گھر میں لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے ران کو ڈھانپ لیا۔ [حسن: إرواء الغليل 298/1]
وہ تمام احادیث گذشتہ مسئلے کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ اصول میں یہ بات مسلم ہے کہ «أن القول أرجح من الفعل» ”بلاشبہ قول فعل سے زیادہ راجح ہے۔“ اور یہ فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا۔ [نيل الأوطار 532/1-534، تمام المنة ص/ 159]
ناف اور گھٹنے خود ستر میں شامل نہیں
کیونکہ جن احادیث سے ان کے ستر ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے یا تو وہ ضعیف ہیں یا غیر واضح ہیں البتہ یہ حدیث ان کے ستر نہ ہونے کی دلیل ہے۔ «ما بين السرة والركبة عورة» ”ناف اور گھٹنے کے درمیان جو کچھ ہے ستر ہے۔“ [إرواء الغليل 247]
جس روایت میں ہے کہ «الركبة من العورة» ”گھٹنا ستر کا حصہ ہے۔“ وہ ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں نضر بن منصور فزاری کوئی راوی کمزور ہے۔ امام بخاریؒ نے اسے منکر الحدیث اور امام نسائیؒ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [ميزان الاعتدال 264/4]
دیگر مسائل کی طرح فقہاء نے اس مسئلے میں بھی اختلاف کیا ہے۔
[الأم 181/1، حلية العلماء 62/2، روضة الطالبين 389/1، الإنصاف فى معرفة الراجح من الخلاف 4511]
(راجح) گھٹنے ستر میں شامل نہیں ہیں۔
(شوکانیؒ) یہی راجح ہے۔ [نيل الأوطار 536/1]
(البانیؒ) گھٹنوں کے ستر ہونے (کے دلائل) میں کچھ بھی صحیح نہیں ہے۔ [تمام المنة ص/ 160]
لونڈی کا ستر ابوداود حدیث نمبر 4018 فوائد دیکھیں۔
ناف اور گھٹنے کا درمیانی حصہ ہے جیسا کہ دلائل حسب ذیل ہیں: ➊ حدیث نبوی ہے کہ «مابين السرة والركبة عورة» ”ناف اور گھٹنے کے درمیان جو کچھ ہے ستر ہے۔“ [حسن: إرواء الغليل 271، 247]
➋ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الفخد عورة» ”ران ستر ہے۔“
[صحيح: صحيح أبو داود 3389، كتاب الحمام: النهى عن التعرى، أبو داود 4104، ترمذي 2798، أحمد 478/3، بخاري تعليقا 478/1، شيخ محمد صحبي حلاق نے اسے صحيح كها هے۔ التعليق على السيل الجرار 363/1]
➌ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ولا تبرز فخذك ولا تنظر إلى فخذ حبى ولا ميت»
”اپنی ران کو ظاہر مت کرو اور کسی کی ران مت دیکھو خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ہو۔“
[ضعيف: ضعيف أبو داود 867، ضعيف الجامع 6187، إرواء الغليل 269، أبو داود 4015، أيضا، ابن ماجة 1460، حاكم 180/4، بزار 694]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معمر رضی اللہ عنہ کو رانیں ننگی کیے ہوئے دیکھا تو فرمایا: «با معمر غط فخذيك فإن الفخذين عورة» ”اے معمر! اپنی رانوں کو ڈھانپ لو کیونکہ رانیں ستر میں شامل ہیں۔“
[ضعيف: المشكاة 3114، أحمد 290/5، بخاري تعليقا 478/1، حاكم 180/4، شيخ محمد صجي حلاق نے اسے حسن كہا ہے۔ التعليق على السيل الجرار 362/1]
ستر کے مسئلے میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔
(شافعیؒ، ابوحنیفہؒ) ران ستر میں شامل ہے۔
(مالکؒ، احمدؒ، اہل ظاہرؒ) صرف قبل اور دبر ہی ستر ہے۔ [نيل الأوطار 532/1]
(راجح) ران ستر میں شامل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ «الفخذ عورة» ”ران ستر ہے۔“
(ابن حجرؒ) حديث «لا تبرز فخذك» کے متعلق رقمطراز ہیں کہ ”یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔“ [تلخيص الحبير 504/1]
(نوریؒ) اکثر علماء کا یہی موقف ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔ [المجموع 175/3]
(شوکانیؒ) حق بات یہی ہے کہ ران ستر میں شامل ہے۔ [نيل الأوطار 532/1]
(البانیؒ) ران ستر ہے۔ [تمام المنة ص/ 160]
جن احادیث میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران ظاہر کی مثلا خیبر کے دن، [بخاري 371، أحمد 102/3] اور اسی طرح حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے اپنے گھر میں لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے ران کو ڈھانپ لیا۔ [حسن: إرواء الغليل 298/1]
وہ تمام احادیث گذشتہ مسئلے کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ اصول میں یہ بات مسلم ہے کہ «أن القول أرجح من الفعل» ”بلاشبہ قول فعل سے زیادہ راجح ہے۔“ اور یہ فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا۔ [نيل الأوطار 532/1-534، تمام المنة ص/ 159]
ناف اور گھٹنے خود ستر میں شامل نہیں
کیونکہ جن احادیث سے ان کے ستر ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے یا تو وہ ضعیف ہیں یا غیر واضح ہیں البتہ یہ حدیث ان کے ستر نہ ہونے کی دلیل ہے۔ «ما بين السرة والركبة عورة» ”ناف اور گھٹنے کے درمیان جو کچھ ہے ستر ہے۔“ [إرواء الغليل 247]
جس روایت میں ہے کہ «الركبة من العورة» ”گھٹنا ستر کا حصہ ہے۔“ وہ ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں نضر بن منصور فزاری کوئی راوی کمزور ہے۔ امام بخاریؒ نے اسے منکر الحدیث اور امام نسائیؒ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [ميزان الاعتدال 264/4]
دیگر مسائل کی طرح فقہاء نے اس مسئلے میں بھی اختلاف کیا ہے۔
[الأم 181/1، حلية العلماء 62/2، روضة الطالبين 389/1، الإنصاف فى معرفة الراجح من الخلاف 4511]
(راجح) گھٹنے ستر میں شامل نہیں ہیں۔
(شوکانیؒ) یہی راجح ہے۔ [نيل الأوطار 536/1]
(البانیؒ) گھٹنوں کے ستر ہونے (کے دلائل) میں کچھ بھی صحیح نہیں ہے۔ [تمام المنة ص/ 160]
لونڈی کا ستر ابوداود حدیث نمبر 4018 فوائد دیکھیں۔
درج بالا اقتباس فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 346 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 880 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
880- سیدنا جرہد اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت مسجد میں موجود تھا میں نے اوپر چادرلی ہوئی تھی اور میرے زانوں سے چادر ہٹی ہوئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جرہد! تم اپنے زانوں کو ڈھانپ لو! کیونکہ زانو ستر کا حصہ ہے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:880]
فائدہ:
مرد کی ستر میں ران شامل ہے اسے ڈھانپا جائے گا۔ البتہ اسے ڈھانپنا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے، جیسےکہ صیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ اپنے گھر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں ران ننگی کر کے بیٹھے رہے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی آمد پر اسے ڈھانپ لیا۔ لہٰذا احادیث متبع سے پتہ چلتا ہے کہ شرمگاہ دو قسم کی ہے ایک ڈھانپنا فرض ہے۔ جیسے دبر قبل جبکہ دوسری مستحب ہے جیسے رانیں۔ (تنقیح الرواة: 3 / 6)
مرد کی ستر میں ران شامل ہے اسے ڈھانپا جائے گا۔ البتہ اسے ڈھانپنا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے، جیسےکہ صیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ اپنے گھر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں ران ننگی کر کے بیٹھے رہے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی آمد پر اسے ڈھانپ لیا۔ لہٰذا احادیث متبع سے پتہ چلتا ہے کہ شرمگاہ دو قسم کی ہے ایک ڈھانپنا فرض ہے۔ جیسے دبر قبل جبکہ دوسری مستحب ہے جیسے رانیں۔ (تنقیح الرواة: 3 / 6)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 879 سے ماخوذ ہے۔