سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ فِي حِفْظِ الْعَوْرَةِ باب: ستر (شرمگاہ) کی حفاظت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ : " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ ؟ قَالَ : " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا ؟ قَالَ : " فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .´معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کہا : اللہ کے نبی ! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ؟ آپ نے فرمایا : ” تم اپنی شرمگاہ اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر ایک سے چھپاؤ “ ، میں نے پھر کہا : جب لوگ مل جل کر رہ رہے ہوں ( تو ہم کیا اور کیسے کریں ؟ ) آپ نے فرمایا : ” تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونا چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے “ ، میں نے پھر کہا : اللہ کے نبی ! جب آدمی تنہا ہو ؟ آپ نے فرمایا : ” لوگوں کے مقابل اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَخَرَجَ مُوسَى فِي إِثْرِهِ، يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا"، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبًا بِالْحَجَرِ.»
”۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ آپ کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا۔ اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے کر بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے۔ آپ کہتے جاتے تھے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل: 278]
یہ روایت صحیح بخاری میں تین مقامات پر ہے۔ [ح 278، 3404، 4799]
امام بخاری رحمہ اللہ کے علاوہ درج ذیل محدثین نے بھی اسے روایت کیا ہے:
مسلم النیسابوری [صحيح مسلم ح339 وترقيم دارالسلام: 770 وبعد ح 2371 ترقيم دارالسلام: 6146، 6147]
ترمذي [السنن: 3221 وقال: ”هذا حديث حسن صحيح“ إلخ]
النسائي فى التفسير [444، 445]
الطحاوي فى مشكل الآثار [1؍11]
والطبري فى تفسيره [تفسير ابن جرير 22؍37]
یہ روایت درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
مسند ابي عوانه [281/1]
صحيح ابن حبان [الاحسان 94/14 ح 6178، دوسرا نسخه: 6211]
الاوسط لابن المنذر [120/2 ح649]
السنن الكبريٰ للبيهقي [198/1]
معالم التنزيل للبغوي [545/3]
یہ روایت امام بخاری رحمہ اللہ سے پہلے درج ذیل محدثین نے بھی بیان کی ہے:
أحمد بن حنبل [المسند 2؍315، 392، 514، 535]
عبدالرزاق [المصنف: 20531]
همام بن منبہ [الصحيفة: 61]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت درج ذیل جلیل القدر تابعین کی سند سے مروی ہے:
① ہمام بن منبہ [الصحيفة: 61 وصحيح البخاري: 278 وصحيح مسلم: 339]
② محمد بن سیرین [صحيح البخاري: 3404، 4799]
③ خلاس بن عمرو [صحيح البخاري: 3404، 4799]
④ الحسن البصری [صحيح البخاري: 3404، 4799]
⑤ عبداللہ بن شقیق [صحيح مسلم: 339 بعد ح2371 ترقيم دارالسلام: 6147]
اس روایت کی دوسری سندیں، آثارِ صحابہ اور آثارِ تابعین بھی مروی ہیں دیکھئیے:
مصنف ابن ابی شیبہ [11؍533، 535]
وتفسیر الطبری [22؍36، 37]
وكشف الاستار [مسند البزار: 2252]
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ صحیح بخاری کی یہ روایت بالکل صحیح ہے۔
اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «انه ليس فى الحديث انهم رأوا من موسي الذكر - الذى هو عورة - و ان رأوا منه هيئة تبينوا بها أنه مبرأ مما قالوا من الادرة وهذا يتبين لكل ناظر بلا شك، بغير أن يرى شيئًا من الذكر لكن بأن يرى مابين الفخذين خاليًا»
”حدیث میں یہ نہیں ہے کہ انہوں (بنی اسرائیل) نے موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر یعنی شرمگاہ دیکھی تھی۔ انہوں نے ایسی حالت دیکھی جس سے واضح ہو گیا کہ موسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے الزمات کہ وہ آدر ہیں (یعنی ان کے خصیے بہت موٹے ہیں) سے بری ہیں۔ ہر دیکھنے والے کو (ایسی حالت میں) بغیر کسی شک کے ذَکر (شرمگاہ) دیکھے بغیر ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ رانوں کے درمیان جگہ خالی ہے۔“ [المحليٰ 3؍213 مسئله: 349]
اس تشریح سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر جو جسمانی نقص والے الزامات لگاتے تھے، ان تمام الزامات سے آپ بری تھے۔ دوسرے یہ کہ اس روایت میں یہ بھی نہیں ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بالکل ننگے نہا رہے تھے۔ امام ابن حزم کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے لنگوٹی وغیرہ سے اپنی شرمگاہ کو چھپا رکھا تھا اور باقی جسم ننگا تھا۔
بنی اسرائیل نے آپ کی شرمگاہ کو دیکھا ہی نہیں لہٰذا منکرین حدیث کا اس حدیث کا مذاق اڑانا مردود ہے۔
بعض الناس نے کہا کہ ”تو تین یا چار نشان کہنے کا کیا مطلب؟“ عرض ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ”اور بھیجا اس کو لاکھ آدمیوں پر یا زیادہ۔“ [الصّٰفّٰت: 147 ترجمه شاه عبدالقادر ص543]
اس آیت کریمہ کا ترجمہ شاہ ولی اللہ الدہلوی کی تحریر سے پڑھ لیں: «وفرستاديم اُو را بسوئے صد هزار يا بيشتر ازان باشند» [ص543]
منکرین حدیث اس آیت کریمہ میں لفظ ”او“ کی جو تشریح کریں گے وہی تشریح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول «ستة أو سبعة» میں «او» کی ہے۔ «والحمدلله»
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ . . .»
”. . . انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الْخَلْوَةِ، وَمَنْ تَسَتَّرَ فَالتَّسَتُّرُ أَفْضَلُ:: 278]
[194۔ البخاري فى: 5 كتاب الغسل: 20 باب من اغتسل عريانًا وحده فى الخلوة 278، مسلم 339]
لغوی توضیح:
«آدَرُ» بڑے بڑے خصیتین والا۔
«فِيْ اِثْرِهِ» اس کے پیچھے۔
«نَدَبٌ» نشان۔
1۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ننگے نہاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی غسل کرے تواسے چاہیے کہ چھپ کرنہائے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الحمام، حدیث: 4012)
اس حدیث کے پیش نظر محدث ابن ابی لیلیٰ ؒ کا موقف ہے کی خلوت میں ننگے نہانا جائز نہیں۔
امام بخاری ؒ نے ان کی تردید میں اس عنوان کو قائم کیا ہے کہ خلوت میں ننگے نہانا جائز ہے، البتہ ستر چھپا کر غسل کرنا بہتر ہے، کیونکہ خلوت میں اگرچہ کسی انسان کی موجودگی نہیں جس سے شرم آئے، مگر اللہ تعالیٰ سے شرم ہونی چاہیے۔
جب انسانوں سے حیا کے پیش نظر ننگا نہانا درست نہیں تو اللہ تعالیٰ سے تو بدرجہ اولیٰ شرمانا چاہیے۔
اس کے لیے امام بخاری ؒ نےحضرت بہز بن حکیم ؓ کی روایت کا حوالہ دیا ہے، ان کے دادا حضرت معاویہ بن حیدہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے خلوت میں ستر کھولنے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔
‘‘ (جامع الترمذي، الأدب، حدیث: 2769)
اب سوال پیداہوتا ہے کہ اس حدیث کے پیش نظرتو خلوت میں بھی ننگے نہانے کا جواز نہیں تو امام بخاری ؒ نے ننگے نہانے کے موقف کو کیوں اپنا یا ہے؟ امام بخاری ؒ نے اس کے جواز کے لیے دو واقعات بیان فرمائے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ خلوت میں ننگے ہوکرنہائے تھے، اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام نے بھی برہنہ غسل فرمایا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے ان سابقہ انبیاء علیہم السلام کے عمل کو نقل فرمایا اور اس پر کسی قسم کا انکار نہیں فرمایا۔
اگر ہماری شریعت میں کوئی مختلف حکم ہوتا تو آپ اس پر ضرور تنبیہ فرمادیتے، اس لیے یہ سکوت، محل بیان کا سکوت ہے جس سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ برہنہ غسل میں کوئی مضائقہ نہیں۔
اسے یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد انبیاء علیہم السلام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ ﴾ ’’ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت یاب بنایاہے لہذا آپ ان کی اقتدا کریں۔
‘‘ (الأنعام 90/6)
اس لیے ان جلیل القدرانبیاء علیہم السلام کا عمل قابل اقتدا اور لائق اتباع ہے۔
(فتح الباري: 501/1)
2۔
کھلی فضا یا ایسے وسیع مکان میں جہاں لوگوں کے آنے کا احتمال نہ ہو، برہنہ غسل کرنا معصیت نہیں بلکہ صرف جائز ہے۔
بعض انتہاپسند حضرات غسل خانے میں بھی تہ بند باندھ کر غسل کرتے ہیں۔
ہماےنزدیک یہ بے جا تشدد ہے جس کی شریعت میں اجازت نہیں، کیونکہ غسل خانہ خود ایک تستر(پردے)
کی صورت ہے۔
3۔
ابن بطال ؒ نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نافرمان تھے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہاتے تھے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل کے وادی تیہ میں قیام کے دوران میں پیش آیا جہاں عورتیں اورمکانات نہ تھے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شریعت میں ایک دوسرے کے سامنے ننگے ہو کر نہانا جائز تھا۔
اگرآپ کی نافرمانی کرتے ہوئے ایسا کرتے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ان کو روکنا ضرور منقول ہوتا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل اس لیے کرتے تھے کہ ان کے ہاں ایسا کرنا افضل تھا۔
(فتح الباري: 501/1)
4۔
موسیٰ علیہ السلام کے اس قصے سے معلوم ہوا کہ علاج یا عیب سے براءت کے پیش نظر دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھنا جائز ہے، مثلاً: زوجین میں سے کوئی دوسرے کے متعلق فسخ نکاح کے لیے برص کا دعویٰ کرے تو اس کی تحقیق کے لیے دیکھنا درست ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی خلقت واخلاق کے لحاظ سے انتہائی کامل ہوتے ہیں اور جو کوئی ان کی طرف کسی نقص خلقی یا عیب خلقی منسوب کرے گا وہ انھیں ایذا دینے والوں میں سے ہوگا اور اس کے ارتکاب پر کفر کااندیشہ ہے۔
(فتح الباري: 532/6)
5۔
ابن بطال نے لکھا ہے کہ واقعہ ایوب سے عریاں ہوکر غسل کرنے کا جواز معلوم ہوا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو سونے کی ٹڈیاں جمع کرنے پر ملامت کی، مگرعریاں غسل کرنے پر کوئی عتاب نہیں فرمایا۔
(شرح ابن بطال: 393/1)
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے “ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے “ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4017]
تنہائی میں بھی بلاوجہ ننگا ہو بیٹھنا جائز نہیں اور تعجب ہے کہ ہمارے ہاں کے جاہل اور بدعتی ومشرک لوگ ننگ دھڑنگ بے دین اور بے شعور لوگوں کو ولی اللہ سمجھتے ہیں۔
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو “، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو “، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1920]
فوائد و مسائل:
(1)
بیوی اور لونڈی کے سوا ہر کسی سے شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا مطلب ناجائز تعلقات اور بدکاری سے اجتناب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ (بنی اسرائیل: 32)
’’زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اعضائے مستورہ پر کسی کی نظر نہ پڑنے دی۔
(2)
عام طور پر مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے اس معاملہ ميں احتیاط کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔
یہ غلط رویہ ہے۔
بغیر کسی مجبوری کے مرد دوسرے مرد کے اور عورت دوسری عورت کے اعضائے مستورہ کو نہیں دیکھ سکتے۔
(3)
اس حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ خاوند بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مستورہ دیکھ لیں تو گناہ نہیں۔
آئندہ روایتوں میں اس کی ممانعت مذکور ہے لیکن وہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔
(4)
تنہائی میں بھی بلا ضرورت بالکل ننگا ہونے سے اجتناب کرنا چاہیے اگرچہ غسل وغیرہ کے وقت تمام کپڑے اتارنا جائز ہے۔ (صحیح البخاري، الغسل، باب من اغتسل عریانا وحدہ فی خلوۃ، ومن تستر فالتستر أفضل، حدیث: 278)