سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ فِي رُكُوبِ ثَلاَثَةٍ عَلَى دَابَّةٍ باب: ایک سواری پر (بیک وقت) تین آدمیوں کے بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2775
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الْجُرَشِيُّ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : لَقَدْ قُدْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنَ ، وَالْحُسَيْنَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ ، حَتَّى أَدْخَلْتُهُ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قُدَّامُهُ وَهَذَا خَلْفُهُ " ، وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہباء نامی خچر کو جس پر آپ ، اور حسن و حسین سوار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کے پاس ( صحن میں ) لیتا چلا گیا ، یہ ( حسن ) آپ کے آگے اور وہ ( حسین ) آپ کے پیچھے بیٹھے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ۲- اس میں ابن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: بعض احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سواری پر تین آدمیوں کے بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ حسن اور حسین رضی الله عنہما کے ساتھ ایک ہی سواری پر بیٹھے، منع کی صورت اس حالت سے متعلق ہے جب سواری کمزور ہو اور اگر طاقتور ہے تو پھر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک سواری پر (بیک وقت) تین آدمیوں کے بیٹھنے کا بیان۔`
سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہباء نامی خچر کو جس پر آپ، اور حسن و حسین سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کے پاس (صحن میں) لیتا چلا گیا، یہ (حسن) آپ کے آگے اور وہ (حسین) آپ کے پیچھے بیٹھے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2775]
سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہباء نامی خچر کو جس پر آپ، اور حسن و حسین سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کے پاس (صحن میں) لیتا چلا گیا، یہ (حسن) آپ کے آگے اور وہ (حسین) آپ کے پیچھے بیٹھے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2775]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بعض احادیث سے ثابت ہے کہ آپﷺایک سواری پر تین آدمیوں کے بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپﷺ حسن اورحسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک ہی سواری پر بیٹھے، منع کی صورت اس حالت سے متعلق ہے جب سواری کمزورہو اور اگر طاقت ور ہے تو پھر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وضاحت:
1؎:
بعض احادیث سے ثابت ہے کہ آپﷺایک سواری پر تین آدمیوں کے بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپﷺ حسن اورحسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک ہی سواری پر بیٹھے، منع کی صورت اس حالت سے متعلق ہے جب سواری کمزورہو اور اگر طاقت ور ہے تو پھر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2775 سے ماخوذ ہے۔