سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ أَنَّ الرَّجُلَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ باب: آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال : سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ : " بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ ، وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي ، قَالَ : قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ قَالَ : فَرَكِبَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ .´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص جس کے ساتھ گدھا تھا آپ کے پاس آیا ۔ اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ سوار ہو جائیے ، اور خود پیچھے ہٹ گیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اپنی سواری کے سینے پر یعنی آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو الاّ یہ کہ تم مجھے اس کا حق دے دو ۔ یہ سن کر فوراً اس نے کہا : میں نے اس کا حق آپ کو دے دیا ۔ ” پھر آپ اس پر سوار ہو گئے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اس باب میں قیس بن سعد بن عبادۃ سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص جس کے ساتھ گدھا تھا آپ کے پاس آیا۔ اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سوار ہو جائیے، اور خود پیچھے ہٹ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو اپنی سواری کے سینے پر یعنی آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو الاّ یہ کہ تم مجھے اس کا حق دے دو۔ یہ سن کر فوراً اس نے کہا: میں نے اس کا حق آپ کو دے دیا۔ ” پھر آپ اس پر سوار ہو گئے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2773]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ کی شخصیت کس قدر متواضع تھی، آپﷺ کسی دوسرے کے حق کو لینا پسند نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ وہ خود آپﷺ کو یہ حق دینے پرراضی نہ ہو جاتا، یہ بھی معلوم ہوا کہ آپﷺ کی شخصیت میں ہمیشہ انصاف پسندی اور حق کا اظہار شامل تھا۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول سوار ہو جائیے اور وہ پیچھے سرک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنا دو “، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2572]
1۔
کار، جیپ اور دیگر سواریوں میں فرنٹ سیٹ کا بھی یہی حکم ہے۔
2۔
نبی کریمﷺ ہر ہر موقع پر تعلیم وتربیت کو پیش نظر رکھتے اور یہ فریضہ سر انجام دیتے تھے۔