سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ فِي الْكَرَاهِيَةِ فِي ذَلِكَ باب: ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2766
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَلْقَى أَحَدُكُمْ عَلَى ظَهْرِهِ فَلَا يَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى " هَذَا حَدِيثٌ ، رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، وَلَا يُعْرَفُ خِدَاشٌ هَذَا مَنْ هُوَ ، وَقَدْ رَوَى لَهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ غَيْرَ حَدِيثٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنی پیٹھ کے بل لیٹے تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کو کئی راویوں نے سلیمان تیمی سے روایت کیا ہے ۔ اور خداش ( جن کا ذکر اس حدیث کی سند میں ہے ) نہیں جانے جاتے کہ وہ کون ہیں ؟ اور سلیمان تیمی نے ان سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں جو ممانعت ہے اس کا تعلق اس صورت سے ہے جب بےپردگی کا خوف ہو، اگر ایسا نہیں ہے مثلاً آدمی پائجامہ اور شلوار وغیرہ میں ہے تو ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان ہوا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی اپنی پیٹھ کے بل لیٹے تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2766]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی اپنی پیٹھ کے بل لیٹے تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2766]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں جوممانعت ہے اس کا تعلق اس صورت سے ہے جب بے پردگی کا خوف ہو، اگر ایسا نہیں ہے مثلاً آدمی پائجامہ اورشلواروغیرہ میں ہے تو ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پررکھ کرچت لیٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث میں نبی اکرمﷺ کے بارے میں بیان ہوا۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں جوممانعت ہے اس کا تعلق اس صورت سے ہے جب بے پردگی کا خوف ہو، اگر ایسا نہیں ہے مثلاً آدمی پائجامہ اورشلواروغیرہ میں ہے تو ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پررکھ کرچت لیٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث میں نبی اکرمﷺ کے بارے میں بیان ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2766 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4865 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھ کر لیٹنا منع ہے۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے۔ قتیبہ کی روایت میں «أن يضع» کے بجائے «أن يرفع» کے الفاظ ہیں، اور قتیبہ کی روایت میں یہ بھی زیادہ ہے ” اور وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4865]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے۔ قتیبہ کی روایت میں «أن يضع» کے بجائے «أن يرفع» کے الفاظ ہیں، اور قتیبہ کی روایت میں یہ بھی زیادہ ہے ” اور وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4865]
فوائد ومسائل:
کیونکہ اس میں بے پردگی کا اندیشہ ہوتا ہے اور مجلس میں دوسروں کے سامنے ایسا عمل ویسے ہی برا لگتا ہے۔
تاہم اس کا جواز بھی ہے، با لخصوص جب بے پردگی کا اندیشہ نہ ہو۔
جیسے کہ درجِ ذیل روایات میں آرہا ہے۔
کیونکہ اس میں بے پردگی کا اندیشہ ہوتا ہے اور مجلس میں دوسروں کے سامنے ایسا عمل ویسے ہی برا لگتا ہے۔
تاہم اس کا جواز بھی ہے، با لخصوص جب بے پردگی کا اندیشہ نہ ہو۔
جیسے کہ درجِ ذیل روایات میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4865 سے ماخوذ ہے۔