حدیث نمبر: 2759
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ ، وَنَتْفِ الْإِبْطِ ، أَنْ نَتْرَكُ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا " ، قَالَ : هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَوَّلِ ، وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْحَافِظِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مونچھیں کترنے ، ناخن کاٹنے ، زیر ناف کے بال لینے ، اور بغل کے بال اکھاڑنے کا ہمارے لیے وقت مقرر فرما دیا گیا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ۲- صدقہ بن موسیٰ ( جو پہلی حدیث کی سند میں ) محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے اوپر نہ ہو، یہ مطلب نہیں ہے کہ چالیس دن کے اندر جائز نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2759
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (2758)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 14 | صحيح مسلم: 258 | سنن ترمذي: 2758 | سنن ابن ماجه: 295

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ناخن کاٹنے اور مونچھیں تراشنے کے وقت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر ناف کے بال لینے، اور بغل کے بال اکھاڑنے کا ہمارے لیے وقت مقرر فرما دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2759]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے اوپر نہ ہو، یہ مطلب نہیں ہے کہ چالیس دن کے اندر جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2759 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 14 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ان چیزوں کو چھوڑے رکھنے کی مدت کی تحدید۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھ کترنے، ناخن تراشنے، زیر ناف کے بال صاف کرنے، اور بغل کے بال اکھیڑنے کی مدت ہمارے لیے مقرر فرما دی ہے کہ ان چیزوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎، راوی نے دوسری بار «أربعين يومًا» کے بجائے «أربعين ليلة» کے الفاظ کی روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 14]
14۔ اردو حاشیہ: ➊ دن اور رات ایک دوسرے کو لازم ہیں، لہٰذا دن کہا جائے یا رات، کوئی فرق نہیں پڑتا۔
➋ چالیس دن آخری حد ہے، ورنہ جب بھی ضرورت محسوس ہو، یعنی طبیعت کو گھن آئے یا گندگی اور میل کچیل جمع ہونے لگے، تو صفائی کی جا سکتی ہے، بال ہوں یا ناخن۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 14 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 295 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´امور فطرت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے مونچھوں کے تراشنے، موئے زیر ناف مونڈنے، بغل کے بال اکھیڑنے، اور ناخن تراشنے کے بارے میں وقت کی تعیین کر دی گئی ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 295]
اردو حاشہ:
فائدہ: جب بھی ضرورت محسوس ہویہ اعمال انجام دے لینے چاہییں لیکن اگر دیر بھی ہوجائے تو چالیس دن سے زیادہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے وگرنہ گناہ گار ہوگا۔
یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ چالیس دن سے پہلے صفائی ہی نہ کی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 295 سے ماخوذ ہے۔