سنن ترمذي
كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2754
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` کوئی شخص انہیں یعنی ( صحابہ ) کو رسول اللہ سے زیادہ محبوب نہ تھا کہتے ہیں : ( لیکن ) وہ لوگ آپ کو دیکھ کر ( ادباً ) کھڑے نہ ہوتے تھے ۔ اس لیے کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند کرتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔