حدیث نمبر: 2748
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَفَعَهُ قَالَ : " الْعُطَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ ، وَالْحَيْضُ وَالْقَيْءُ وَالرُّعَافُ مِنَ الشَّيْطَانِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قُلْتُ لَهُ : مَا اسْمُ جَدِّ عَدِيٍّ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ قَالَ : اسْمُهُ دِينَارٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ثابت کے باپ روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز میں چھینک ، اونگھ ، جمائی ، حیض ، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف شریک کی روایت جانتے ہیں جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں ، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس روایت «عن عدی بن ثابت عن ابیہ عن جدہ» کے تعلق سے پوچھا کہ عدی کے دادا کا کیا نام ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا ، لیکن یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نام دینار ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2748
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (999) // ضعيف الجامع الصغير (3865) // , شیخ زبیر علی زئی: (2748) إسناده ضعيف / جه 969, أبو اليقظان : ضعيف مدلس (تقدم:126)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الإقامة 42 (969) ( تحفة الأشراف : 3543) (ضعیف) (سند میں ’’ ثابت انصاری ‘‘ مجہول، اور ’’ ابوالیقظان ‘‘ ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نماز میں چھینک شیطان کی جانب سے آتی ہے۔`
ثابت کے باپ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں چھینک، اونگھ، جمائی، حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2748]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’ثابت انصاری‘‘ مجہول، اور ’’ابوالیقظان‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2748 سے ماخوذ ہے۔