سنن ترمذي
كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
باب مَا جَاءَ فِي مَرْحَبًا باب: مرحبا کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جِئْتُهُ : " مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ ، لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَمُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق مُرْسَلًا ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، وَهَذَا أَصَحُّ ، قَالَ : سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ بَشَّارٍ يَقُولُ ، مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ : وَكَتَبْتُ كَثِيرًا عَنْ مُوسَى بْنِ مَسْعُودٍ ثُمَّ تَرَكْتُهُ .´عکرمہ بن ابی جہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب میں ( مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے ) آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہاجر سوار کا آنا مبارک ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے ۔ ہم اسے صرف موسیٰ بن مسعود کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں ۔ موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے بھی یہ حدیث سفیان سے اور سفیان نے ابواسحاق سے مرسلاً روایت کی ہے ۔ اور اس سند میں مصعب بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے اور یہی صحیح تر ہے ، ۳- میں نے محمد بن بشار کو کہتے ہوئے سنا : موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، ۴- محمد بن بشار کہتے ہیں : میں نے موسیٰ بن مسعود سے بہت سی حدیثیں لیں ، پھر میں نے ان سے حدیثیں لینی چھوڑ دی ، ۵- اس باب میں بریدہ ، ابن عباس اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عکرمہ بن ابی جہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب میں (مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے) آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مہاجر سوار کا آنا مبارک ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2735]
نوٹ:
(سند میں ”موسیٰ بن مسعود“ حافظہ کے کمزور تھے، اس لیے تصحیف (پھیر بدل) کے شکار ہو جایا کرتے تھے)