سنن ترمذي
كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
باب مَا جَاءَ فِي تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي باب: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , قَالَا : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ وَزَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ وَيُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ " , وفي الباب عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَجَابِرٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وقَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ : إِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو ، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ( یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے “ ۔ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے : ” چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے ، ۲- ایوب سختیانی ، یونس بن عبید اور علی بن یزید کہتے ہیں کہ حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے ، ۳- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل ، فضالہ بن عبید اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو (یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے۔“ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ” چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2703]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ سلام کرنے میں حدیث میں جو طریقہ اور صورت مذکور ہے اس کا اعتبار ہو گا نہ کہ رتبے اور درجے کا، اگر صورت میں اتفاق ہو گا مثلاً دونوں سوار ہیں یا دونوں پیدل ہیں تو ایسی صورت میں سلام کرتے وقت چھوٹے اور بڑے کا لحاظ ہو گا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر دو جماعتوں کی ملاقات ہو تو جس جماعت میں کم آدمی ہوں وہ زیادہ آدمیوں والی جماعت کو سلام کرنے میں پہل کرے۔
اس کے متعلق ایک مزید ہدایت دوسری حدیث میں بیان ہوئی ہے کہ اگر گزرنے والی جماعت میں سے ایک آدمی سلام کہہ دے تو پوری جماعت کی طرف سے کافی ہے۔
اسی طرح بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کوئی ایک جواب دے دے تو سب کی طرف سے جواب ہو جائے گا۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5210)
جو شخص کسی سواری پر جا رہا ہو وہ پہل کر کے پیدل چلنے والوں کو سلام کرے۔
اس ہدایت میں یہ حکمت ہے کہ سوار کو بظاہر ایک دنیوی بلندی اور بڑائی حاصل ہے، لہذا اسے حکم دیا گیا کہ وہ پیدل چلنے والوں کو سلام کر کے اپنی بڑائی کی نفی کرے، نیز اس انداز میں اس کی تواضع اور خاکساری کا اظہار بھی ہو۔
واللہ أعلم
(1)
ان احکام میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ چھوٹے کو بڑوں کے سامنے تواضع اور عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ان کی عزت و تعظیم کرنی چاہیے۔
اسی طرح تعداد میں کم لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے سے زیادہ لوگوں کا ادب کریں کیونکہ زیادہ تعداد کا حق بھی عظیم تر ہوتا ہے، نیز گزرنے والا، بیٹھنے والوں کو سلام کرے۔
(2)
اس میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ گزرنے والا لوگوں کے پاس آتا ہے اسے جلدی سلام کرنے کا حکم ہے تاکہ انہیں سلامتی سے مطلع کرے اور سلامتی کی دعا کی وجہ سے لوگ اس کے شر سے امن میں رہیں۔
جب چلنے والے زیادہ ہوں اور بیٹھنے والے کم ہوں تو پیدل ہونے کے اعتبار سے سلام کہنا ان کی ذمے داری ہے لیکن تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے ان سے سلام ساقط ہے۔
ایسے حالات میں دو آدمیوں والا حکم ہے جو آپس میں ملاقات کرتے ہیں، ان میں سے جو بھی سلام کہنے میں پہل کرے گا وہ بہتر اور افضل ہے۔
(فتح الباري: 22/11)
واللہ أعلم
«وعن ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ليسلم الصغير على الكبير والمار على القاعد والقليل على الكثير متفق عليه. وفي رواية لمسلم: والراكب على الماشي .»
”اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو سلام کہے، گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے زیادہ کو۔“ ”مسلم کی ایک روایت میں ہے اور سوار پیدل چلنے والے کو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1242]
[بخاري:6231، 6232، 6234]، [مسلم، السلام: 5646]، [بلوغ المرام: 1242]
[تحفة الاشراف: 275/10، 394]
مفردات:
«ليسلم الصغير على الكبير» یہ جملہ صحیح مسلم میں نہیں ہے اس لئے پوری حدیث کو متفق علیہ کہنا مشکل ہے۔
«والراكب على الماشي» یہ جملہ مسلم کے علاوہ صحیح بخاری میں بھی ہے۔ [الاستيذان: 25]
فوائد:
➊ سلام میں ابتداء کی اس ترتیب میں جو حکمتیں ہیں اہل علم نے اپنی اپنی دانست کے مطابق بیان فرمائی ہیں اصل حکمت اللہ ہی کے پاس ہے اور اسی کا علم کامل ہے۔
➋ چھوٹے کو سلام میں پہل کرنے کا حکم اس لئے ہے کہ بڑے کا حق چھوٹے پر زیادہ ہے کیونکہ چھوٹے کو حکم ہے کہ بڑے کی توقیر کرے اور اس کے ساتھ با ادب رہے۔
➌ تھوڑے لوگوں کو سلام میں پہل کرنے کا حکم اس لئے ہے کہ زیادہ لوگوں کا تھوڑے لوگوں پر زیادہ حق ہے اور اس لئے بھی کہ زیادہ لوگ تھوڑے لوگوں کو یا اکیلے کو پہلے سلام کہیں تو اس میں خود بینی اور کبر نہ پیدا ہو جائے۔
➍ گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اس لئے پہلے سلام کہے کہ وہ داخل ہونے والے کی طرح ہے جسے سلام کرنے کا حکم ہے۔ اور اس لئے بھی کہ بیٹھے ہوئے شخص کا ہر گزرنے والے کی طرف بار بار از خود متوجہ ہو کر سلام کہنا مشکل ہے۔ جب کہ گزرنے والے کو ایسی کوئی مشکل نہیں۔
➎ سوار پیدل چلنے والے کو اس لئے پہلے سلام کہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسے سواری کی نعمت عطا فرمائی ہے تو اس کا حق ہے کہ وہ تواضع اختیار کرے۔ اگر پیدل کو حکم ہوتا کہ سوار کو پہلے سلام کہے تو خطرہ تھا کہ سوار میں تکبر نہ پیدا ہو جائے۔
➏ جب دونوں ملنے والے برابر ہوں تو دونوں کو ابتداء کا حکم ہے «أفشوا السلام» ”سلام عام کرو“ ان میں سے جو پہل کرے گا وہ افضل ہے۔ جیسا کہ دو قطع تعلق کرنے والوں کے متعلق فرمایا: «وخيرهما الذي يبدأ بالسلام» ”ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“ [متفق عليه]
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «والماشيان أيهما يبدأ بالسلام فهو أفضل»
”دو پیدل چلنے والوں میں سے جو پہلے سلام کہے وہ افضل ہے۔“ [صحيح الادب المفرد 983/754]
یہ حدیث مرفوع بھی صحيح ہے۔ [الصحيحه 1146]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ دو آدمی ملتے ہیں تو پہلے کون سلام کہے گا؟ فرمایا: «أولاهما بالله» ”جو دونوں سے اللہ کے زیادہ قریب ہے۔“ [ترمذي عن ابی امامه و قال حسن]، اور دیکھئے [صحيح الترمذي 2167]
➐ اگر وہ شخص جسے پہلے سلام کرنے کا حکم ہے سلام نہیں کہتا تو دوسرے کو سلام کہہ دینا چاہئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیلانے کی بہت تاکید کی ہے۔ [بخاري 9335]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چھوٹا بڑے کو، راہ چلتا بیٹھے کو اور تھوڑے زیادہ تعداد والوں کو سلام کہا کریں۔ “ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ سوار پیدل کو سلام کرے۔ “ «بلوغ المرام/حدیث: 1242»
«أخرجه البخاري، الاستئذان، باب تسليم القليل علي الكثير، حديث:6231، ومسلم، السلام، باب يسلم الراكب علي الماشي...، حديث:2160.»
تشریح: 1. اس حدیث میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کے آداب کا ذکر ہے۔
2. چنانچہ حکم ہے کہ کم عمر والا بڑی عمر والے کو پہلے سلام کرے۔
اس سے بڑے کی عزت و توقیر مقصود ہے۔
اور آنے والے کو حکم ہے کہ بیٹھے ہوئے کو سلام کرے‘ اس کی حکمت و علت یہ معلوم ہوتی ہے کہ آنے والے سے ضرر و نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے مگر جب وہ پہلے سلام کرے گا تو اس سے گویا خطرے کا اندیشہ ختم ہوگیا۔
اورسوار پیدل چلنے والوں کو سلام کریں کیونکہ سواری پر بیٹھا ہوا انسان ذرا بڑائی کے زعم اور تکبر میں مبتلا ہو جایا کرتا ہے‘ اس کے ازالے کے لیے حکم فرمایا کہ سوار پہلے سلام کرے اور اپنی تواضع اور محبت کا اظہار کرے۔
اسی طرح کم تعداد‘ زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں‘ اس میں کثرت کی قلت پر فوقیت اور افضلیت کی طرف اشارہ ہے۔
گویا اسلام نے حفظ مراتب کا اہل اسلام کو سبق دیا ہے جس پر ماشاء اللہ یہ امت عمل پیرا ہے۔