سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , وَجَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَثِرْ ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ " . قال : وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ , وَلَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ , وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قال أبو عيسى : حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَنْ تَرَكَ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ : إِذَا تَرَكَهُمَا فِي الْوُضُوءِ حَتَّى صَلَّى ، أَعَادَ الصَّلَاةَ وَرَأَوْا ذَلِكَ فِي الْوُضُوءِ وَالْجَنَابَةِ سَوَاءً وَبِهِ . يَقُولُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق , وقَالَ أَحْمَدُ : الِاسْتِنْشَاقُ أَوْكَدُ مِنَ الْمَضْمَضَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ : يُعِيدُ فِي الْجَنَابَةِ وَلَا يُعِيدُ فِي الْوُضُوءِ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَبَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ : لَا يُعِيدُ فِي الْوُضُوءِ وَلَا فِي الْجَنَابَةِ لِأَنَّهُمَا سُنَّةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا تَجِبُ الْإِعَادَةُ عَلَى مَنْ تَرَكَهُمَا فِي الْوُضُوءِ وَلَا فِي الْجَنَابَةِ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ , وَالشَّافِعِيِّ فِي آخِرَةٍ .´سلمہ بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے لو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں عثمان ، لقیط بن صبرہ ، ابن عباس ، مقدام بن معدیکرب ، وائل بن حجر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- سلمہ بن قیس والی حدیث حسن صحیح ہے ، ۳- جو کلی نہ کرے اور ناک میں پانی نہ چڑھائے اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے : ایک گروہ کا کہنا ہے کہ جب کوئی ان دونوں چیزوں کو وضو میں چھوڑ دے اور نماز پڑھ لے تو وہ نماز کو لوٹائے ۱؎ ان لوگوں کی رائے ہے کہ وضو اور جنابت دونوں میں یہ حکم یکساں ہے ، ابن ابی لیلیٰ ، عبداللہ بن مبارک ، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں ، امام احمد ( مزید ) کہتے ہیں کہ ناک میں پانی چڑھانا کلی کرنے سے زیادہ تاکیدی حکم ہے ، اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جنابت میں کلی نہ کرنے اور ناک نہ جھاڑنے کی صورت میں نماز لوٹائے اور وضو میں نہ لوٹائے ۲؎ یہ سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ کا قول ہے ، ایک گروہ کا کہنا ہے کہ نہ وضو میں لوٹائے اور نہ جنابت میں کیونکہ یہ دونوں چیزیں مسنون ہیں ، تو جو انہیں وضو اور جنابت میں چھوڑ دے اس پر نماز لوٹانا واجب نہیں ، یہ مالک اور شافعی کا آخری قول ہے ۳؎ ۔
۲؎: ان لوگوں کے یہاں یہ دونوں عمل وضو میں مسنون اور جنابت میں واجب ہیں کیونکہ جنابت میں پاکی میں مبالغہ کا حکم ہے۔
۳؎: یہی جمہور علماء کا قول ہے کیونکہ عطاء کے سوا کسی بھی صحابی یا تابعی سے یہ منقول نہیں ہے کہ وہ بغیر کلی اور ناک جھاڑے پڑھی ہوئی نماز دہرانے کے قائل ہو، گویا یہ مسنون ہوا فرض اور واجب نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
سلمہ بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے لو۔" [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 27]
1؎:
کیونکہ ان کے نزدیک یہ دونوں عمل وضو اور غسل دونوں میں فرض ہیں، ان کی دلیل یہی حدیث ہے، اس میں امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور ’’امر‘‘ کا صیغہ وجوب پر دلالت کرتا ہے، الا یہ کہ کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جس سے’’امر‘‘ کا صیغہ حکم اور وجوب کے معنی سے استحباب کے معنی میں بدل جائے جو ان کے بقول یہاں نہیں ہے، صاحب تحفۃ الاحوذی اسی کے مؤید ہیں۔
2؎:
ان لوگوں کے یہاں یہ دونوں عمل وضو میں مسنون اور جنابت میں واجب ہیں کیونکہ جنابت میں پاکی میں مبالغہ کا حکم ہے۔
3؎:
یہی جمہورعلماء کا قول ہے کیونکہ عطاء کے سوا کسی بھی صحابی یا تابعی سے یہ منقول نہیں ہے کہ وہ بغیر کلی اور ناک جھاڑے پڑھی ہوئی نماز دہرانے کے قائل ہوں، گویا یہ مسنون ہوا فرض اور واجب نہیں۔
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب استنجاء کرو تو طاق (ڈھیلا) استعمال کرو " ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 43]
کسی ایک حدیث کو دوسری حدیث سے قطع نہیں کیا جا سکتا۔ روایات کو ملانے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں ’’طاق" سے مراد تنی یا تین سے اوپر طاق عدد ہے کیونکہ اصول یہ ہے کہ مطلق دلیل کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ احادیث میں کم از کم تین پتھروں پر اکتفا کرنے کی اجازت ہے اس سے کم پر نہیں کیونکہ ایسا کرنا شرعاً ممنوع ہے، البتہ مجبوری کی حالت میں کہ جب تین ڈھیلے نہ ملتے ہوں تو دو یا ایک ڈھیلا استعمال کرنا جائز ہے یا ایک ڈھیلا تین دفعہ استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ عام حالات کو مجبوری کی صورتوں پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ واللہ أعلم۔
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: " جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے استعمال کرو۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 406]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف ناک میں پانی ڈال لینا ہی کافی نہیں بلکہ ضرورت ہوتوناک کو اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔
(2)
استنجاء کے لیے تین ڈھیلے استعمال کرنا ضروری ہیں۔
اگر تین سے زیادہ ڈھیلے استعمال کرنے کی ضرورت ہوتو کرسکتا ہے تاہم ان کی تعداد طاق ہونی چاہیے۔
واللہ أعلم
اس حدیث سے ایک ڈھیلے کے کافی ہونے پر استدلال کرنا کمزور ہے کیونکہ یہاں ایک ڈھیلے کی صراحت نہیں۔ طاق کے لفظ سے یہ استدال کہ وہ ایک کو بھی شامل ہے، حالانکہ دوسری احادیث میں تین سے کم کی صریح نفی ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین ڈھیلوں سے کم سے استنجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم: 262]
کسی ایک حدیث کو دوسری حدیث سے قطع نہیں کیا جا سکتا۔ روایات کو ملانے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں طاق سے مراد تین یا تین سے اوپر طاق عدد ہے کیونکہ اصول یہ ہے کہ مطلق دلیل کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ احادیث میں کم از کم تین پتھروں پر اکتفا کرنے کی اجازت ہے۔ اس سے کم پر نہیں کیونکہ ایسا کرنا شرعاً ممنوع ہے۔ البتہ مجبوری کی حالت میں کہ جب تین ڈھیلے نہ ملتے ہوں تو دو یا ایک ڈھیلا استعمال کرنا جائز ہے یا ایک ڈھیلا تین دفعہ استعمال کیا جا سکتا ہے اس لیے عام حالات کو مجبوری کی صورتوں پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ واللہ اعلم۔[سنن نسائي متر جم دارالسلام: 1 /117]